رسائی کے لنکس

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 100 دینار مالیت کے اِس نوٹ کی ایک طرف القاعدہ کے سابق سرغنے اسامہ بن لادن کی تصویر ہے، جب کہ دوسری طرف 11 ستمبر 2001ء میں اِسی گروپ کی طرف کیے گئے حملوں میں تباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ ٹاور کی دو عمارتوں کو دکھایا گیا ہے

میڈیا رپورٹس کے مطابق، القاعدہ سے منسلک ایک گروہ نے مغربی عراق میں بینک نوٹ جاری کیا ہے، جس پر اسامہ بن لادن اور 11ستمبر کے حملوں میں تباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر ٹاورز کی تصاویر آویزاں ہیں۔

عراق کے مغربی صوبہٴانبار کے ایک قبائلی سردار نے میڈیا کو ایسے ہی ایک کرنسی نوٹ کا فوٹو دکھایا، جسے عراق کی اسلامی ریاست کی لیونت یعنی’ آئی ایس آئی ایل‘ نے جاری کیا ہے، جس میں نوٹ کے سامنے والے رُخ پر ’ایک 100اسلامی پاؤنڈز‘ چھپا ہوا ہے۔ یہ فوٹو عربی زبان کے متعدد ویب سائٹس پر شائع کیا گیا ہے۔

کرد ویب سائٹ ’پی یو کے میڈیا‘ نے مقامی عہدے دار، حمید الحیث کے حوالے سے بتایا ہے اس کرنسی نوٹ کو انبار میں شرف قبولیت نصیب نہیں ہو پائے گا؛ بلکہ جس کسی کے پاس سے یہ کرنسی نوٹ برآمد ہوگا اُسے ’آئی ایس آئی ایل‘ کا رُکن خیال کیا جائے گا، جو عراق، شام اور دیگر ممالک میں شریعہ کا قانون قائم کرنے کے مقصد سے لڑ رہا ہے۔

’پی یو کے میڈیا‘ کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 100 دینار مالیت کے اِس نوٹ کی ایک طرف القاعدہ کے سابق سرغنے اسامہ بن لادن کی تصویر ہے، جب کہ دوسری طرف 11 ستمبر 2001ء میں اِسی گروپ کی طرف کیے گئے حملوں میں تباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ ٹاور کی دو عمارتوں کو دکھایا گیا ہے۔

ادھر، ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے، ’فارس‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس کرنسی نوٹ کا مقصد عراقی دینار کی جگہ لینا معلوم ہوتا ہے، جسے ’آئی ایس آئی ایل دینار‘ کا نام دیا گیا ہے۔ فارس کی خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کاغذ کے اِس سکے پر ’آئی ایس آئی ایل‘ لیڈر اور وزیر مالیات کے دستخط ہیں، جبکہ اُن کے نام تحریر نہیں ہیں۔

سنی قبائلی سردار، شیخ احمد ابو رِشا، جو انبار کو نجات دلانے والی کونسل کے سربراہ کہلاتے ہیں، اُنھوں نے انبار میں ’آئی ایس آئی ایل‘ کی موجودگی کے ثبوت کے طور پر یہ کرنسی نوٹ پیش کیا ہے، اور عراقی پولیس اور مقامی قبائل پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی فورسز میں شریک ہوجائیں۔

انبار میں عراقی فوج اور ’آئی ایس آئی ایل‘ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ اسلام پسند مسلح افراد اور اُن کے اتحادیوں نے گذشتہ ماہ فلوجہ اور رمادی کے کچھ کشیدگی کے شکار حصوں پر قبضہ جما لیا تھا۔
XS
SM
MD
LG