رسائی کے لنکس

عراق: فلوجہ میں داعش کے خلاف کارروائی کا آغاز


فائل فوٹو

فائل فوٹو

عراق کی مشترکہ آپریشن کی کمان نے فلوجہ کے عام شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شہر سے چلے جائیں جن کی تعداد ممکنہ طور پر ہزاروں میں ہے۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے پیر کو فلوجہ شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، اس شہر پر دو سال قبل شدت پسند گروپ داعش نے قبضہ کر لیا تھا۔

فلوجہ شہر دارالحکومت بغداد کے شمال میں 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر جاری بیان میں عبادی نے کہا کہ "ہم فلوجہ کو آزاد کروانے کے لیے کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں۔"

اس اعلان میں بظاہر اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ عراقی فورسز موصل کی بجائے پہلے فلوجہ کی طرف پیش قدمی کررہی ہیں۔ موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے جس پر داعش کا قبضہ ہے۔

امریکی فوج جس کے سینکڑوں مشیر اور تربیت کار عراقی فورسز کی معاونت کے لیے عراق میں موجود ہیں پہلے عراق کے شمالی علاقے میں واقع موصل شہر کی طرف پیش قدمی کے حق میں تھیں۔ تاہم عراق کی طاقتور ملیشیا فورسز اس حملے کی تیاری میں فلوجہ کے علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے۔

ایک شیعہ ملیشیا فورس 'بدر' کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ فلوجہ آپریشن بہت جلد شروع ہو گا۔

عراق کی مشترکہ آپریشن کی کمان نے فلوجہ کے عام شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شہر سے چلے جائیں جن کی تعداد ممکنہ طور پر ہزاروں میں ہے۔

عراقی مشترکہ آپریشن کمان کے یحییٰ رسول نے عراقی ٹی وی پر کہا کہ "میں فلوجہ کے اندر رہنے والے شہریوں سے کہوں گا کہ وہ ان علاقوں کو چھوڑ کر محفوظ علاقوں کا رخ کریں۔" انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند دنوں میں فلوجہ کو آزاد کروانے کا آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔

درجنوں کی تعداد میں خاندان فلوجہ سے بھاگ گئے ہیں تاہم عراقی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ داعش نے انہیں شہر چھوڑنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ ماہ متنبہ کیا تھا کہ فلوجہ میں باقی رہنے والے مکینوں کو خوراک کی کمی اور (اشیاء ضروری کی) حد سے زیادہ قیمتوں کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG