رسائی کے لنکس

عراق کا سیاسی بحران، مذاکرات پر زور


عراق کا سیاسی بحران، مذاکرات پر زور

عراق کا سیاسی بحران، مذاکرات پر زور

امریکی نائب صدر نےاتوار کو وزیر اعظم الماکی اور ہفتے کے روزعراق کے خود مختار علاقے کردستان کے صدر بارزانی سےفون پر گفتگو کی، اور سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے عراقی راہنماؤں سے ٹیلی فون پر گفتگو میں سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے ’مکالمہ‘ جاری کرنے پر زور دیا ہے، جِس کا باعث اقتدار میں شریک ناپختہ اتحاد ہے۔

بائیڈن کے دفترنے بتایا ہے کہ نائب صدر نےاتوار کو عراقی وزیر اعظم نوری الماکی اور ہفتے کو عراق کے خودمختار کردستان علاقے کے صدر، مسعود بارزانی سے گفتگو کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں راہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے دوران جو بائیڈن نے عراق کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر تبادلہٴ خیال کیا اور امریکہ کی طرف سے عراقی سیاسی قائدین کےدرمیان مذاکرات منعقد کرانےکی کوششوں کا اعادہ کیا۔

بائیڈن نے کہا کہ امریکہ عراق میں فرقہ وارانہ تناؤ کم کرنے کے لیے قائدانہ کردار ادا کرتا رہا ہے، جس میں اُس وقت تیزی آئی جب آٹھ برس سے جاری جنگ کے خاتمے پر،اِسی ماہ ملک سے امریکی فوج کا انخلا مکمل ہوا۔

فوجوں کے انخلا کے بعد سےشیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے عراقی وزیر اعظم مالکی نے ملک کے سنی نائب صدر طارق الھاشمی کو بغداد کی ایک عدالت میں پیش ہونے کے احکامات دیے، جن پر سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کی غرض سے محافظین رکھنے کا الزام ہے۔ مقدمے میں گرفتاری کے وارنٹ سے بچنے کے لیے، ھاشمی عراقی کردستان کے دارالحکومت کی طرف بھاگ نکلے۔ عراقی کرد راہنماؤں نے اُنھیں پناہ دے رکھی ہے۔

مسٹر مالکی نے پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کے سنی نائب، صالح المطلق کو فارغ کیا جائے، جِنھوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں وزیر اعظم کو آمر قرار دیا تھا۔

ھاشمی اور مطلق کا تعلق عراقیہ پارٹی سے ہے، جس پارلیمانی گروہ کو عراق کی متعدد اقلیتی سنی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ مسٹر مالکی کی طرف سے اُن کے شیعہ حکمراں گروپ کو مضبوط کرنے کےشبہے میں عراقیہ پارٹی نے اِس ماہ سےپارلیمان کے بائیکاٹ کا آغاز کردیا ہے۔

فرانسسی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو میں، جو اتوار کو شائع ہوا، ھاشمی نے اِس بات کو تسلیم کیا کہ یہ ممکن ہے کہ اُن کے محافظوں نے حملوں میں حصہ لیا ہو، تاہم، اُنھوں نےقتل میں ملوث ہونے کے تاثر کو مسترد کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ بغداد واپس نہیں آئیں گے، کیونکہ اُن کے گارڈز کو جیل بھیجنے کے بعد شہر میں اُن کی حفاظت غیر یقینی ہوگئی ہے، چونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عراق کا عدالتی نظام سیاست کی نذر ہوچکا ہے۔


ھاشمی نے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کا مقدمہ عراقی کردستان کے عدالتی نظام کے تحت چلایا جائے۔

XS
SM
MD
LG