رسائی کے لنکس

یہ دھماکا پیر کو جرف السخار نامی قصبےکے باہر ایک سکیورٹی چوکی پر ہوا۔

عراقی فورسز اور شیعہ ملیشیا کی طرف سے ’دولت اسلامیہ‘ کے جنگجوؤں سے واپس لیے جانے والے قصبے جرف السخار کے نواح میں ایک خود کش بم حملے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکا پیر کو جرف السخار نامی قصبےکے باہر ایک سکیورٹی چوکی پر ہوا۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العابدی نے اتوار کو بغداد سے پچاس کلومیڑ جنوب میں واقع قصبے کا قبضہ حاصل کرنے پر کہا تھا کہ یہ دولت اسلامیہ کے خلاف "مہلک ضرب " ہے۔

دوسری طرف دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور کرد ملیشیا کے درمیان ترکی کی سرحد کے قریب شام کے شمالی قصبے کوبانی میں لڑائی گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری ہے۔ پیر کو بھی کوبانی سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔

برطانیہ میں قائم’ سیئرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ جو شام میں تشدد کے واقعات کی نگرانی کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ کوبانی میں زمینی لڑائی میں 800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 500 (دولت اسلامیہ کے ) جنگجو اور 300 کرد شامل ہیں۔

کرد ملیشا کی مدد کے لیے عراقی کردستان سے ’کرد پیش مرگ فورسز‘ کی آمد کی توقع ہے جو آئندہ ہفتے علاقے میں پہنچ سکیں گے۔

XS
SM
MD
LG