رسائی کے لنکس

حکام کے مطابق یہ دھماکا دارالحکومت بغداد کے جنوب میں ابو دیصیر کے علاقے میں ہوا جب خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی پولیس چوکی سے ٹکرا دی۔

عراق میں ہفتہ کو ہونے والے کار بم دھماکوں میں کم ازکم 22 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد کے جنوب میں ابو دیصیر کے علاقے میں ہوا ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی ایک پولیس چوکی سے ٹکرائی۔

اس واقعے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

اس واقعے کے بعد بغداد ہی کے تین مختلف علاقوں میں کار بم دھماکے ہوئے جن میں کم ازکم 15 افراد مارے گئے۔

یہ واقعات کاظمیہ، بیاع اور جیہاد نامی علاقوں میں پیش آئے جو کہ شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے ہیں۔

تاحال اس دھماکوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

ملک میں سنی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ فی عراق ولشام (داعش) نے عراق کے شمال میں کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس تنظیم نے دارالحکومت بغداد میں کئی خودکش حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

حکومت نے داعش کی بغداد کی جانب پیش قدمی روکنے کے لیے فوری طور پر بہت سے اقدامات کیے جب کہ امریکہ نے بھی عراقی فورسز کی استعداد کار کا جائزہ لینے کے لیے اپنے فوجی مشیر عراق بھیج رکھے ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق عراق میں جاری لڑائی کے دوران حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG