رسائی کے لنکس

یہ کار بم دھماکے منگل کو بغداد میں شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقوں میں ہوئے۔

عراق میں متعدد کاربم دھماکوں میں 28 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ کار بم دھماکے منگل کو بغداد میں شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقوں میں ہوئے۔

منگل کے روز ہونے والے دھماکے ایک ایسے وقت ہوئے جب 30 اپریل کو عراق میں ہونے والے عام انتخابات کے ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں عراق میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ عراقی حکومت کے لیے ملک کے امن و امان کو قائم کرنے کے ضمن میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

پولیس کے مطابق بغداد کے نواحی علاقے صدر سٹی میں صبح کے وقت ایک کار بم دھماکے میں چار افراد ہلاک ہوئے اور اسی علاقے میں ایک دوسرے کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔

دوسری طرف بغداد کے مشرقی علاقے جمیلہ میں ایک تجارتی مرکز میں ہونے والے کار بم دھماکے سے تین لوگ ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ایک اور دھماکا مشرقی بغداد میں ٹریفک پولیس کے دفتر کے قریب ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

منگل ہی کے روز شہر کی وسطی تجارتی علاقے میں کار بم دھماکے سے دو افراد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی بغداد میں شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے میں ایک تجارتی مرکز میں بھی ایک کار بم دھماکے سے پانچ لوگ ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔

منگل کی دوپہر کو ہی بغداد کے جنوبی علاقے اُر میں بھی ایک کار بم دھماکے میں 5 افراد مارے گئے جب کہ 12 زخمی ہو ئے۔

کسی گروپ نے ابھی تک ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم، اِس سے قبل سنی شدت پسند گروہ سکیورٹی فورسز اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو ہدف بناتے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سال عراق میں پرتشدد واقعات میں آٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
XS
SM
MD
LG