رسائی کے لنکس

عراق میں ہیضہ پھوٹ پڑا


بغداد: صدر سٹی میں بچے پھٹی ہوئی پائپ لائن سے پانی پیتے ہوئے

بغداد: صدر سٹی میں بچے پھٹی ہوئی پائپ لائن سے پانی پیتے ہوئے

عراقی نائب وزیر صحت خمیس سعاد نے صحافیوں کو بتایا کہ بغداد اور اس کے مضافات میں ابو غریب کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے ہیضہ پھوٹ پڑا ہے

عراق میں گندے پانی کی نکاسی، پینےکے صاف پانی کی عدم فراہمی اور ملکی سطح پر بجلی کی فراہمی کےنظام کی تباہی کے بعد بڑے پیمانے پر ہیضہ پھوٹ پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

’وائس اف امریکہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، عراقی حکام نے حالیہ دنوں میں بغداد اور اس کے قریبی شہروں ابوغریب اور نجف میں ہیضہ کے 120 کے مریضوں کی تصدیق کی ہے۔

عراق میں حکام نے ہیضہ سے بچنے کے لئے ایک عوامی پیغام جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ بیماری کیسے لاحق ہوتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے۔ اس کی علامات کیا ہیں۔

عراقی صوبہ دیوانیہ میں ’انفیکشن ڈزیز‘ کے سربراہ، ڈاکٹر مکی باری بار نے ’الحرا‘ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہیضہ عام طور پر تیز دست کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن، حجابت میں نہ کوئی درد ہوگا اور نہ ہی فضلے میں کوئی خون آئے گا اور نہ ہی بخار ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ خوراک یا پانی میں آلودگی کی وجہ سے یہ بیماری اچانک ہی ہوجاتی ہے۔

عراقی نائب وزیر صحت خمیس سعاد نے صحافیوں کو بتایا کہ بغداد اور اس کے مضافات میں ابو غریب کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے ہیضہ پھوٹ پڑا ہے۔

عراقی میڈیا کے مطابق، عراقی افواج اور داعش کے مسلح جنگجوؤں کے درمیان جاری جنگ بھی اس وبا کے پھوٹ پڑنے کی اہم وجہ ہے۔ امبر صوبے کے ہزاروں پناہ گزین علاقے میں عارضی ٹنٹ میں قیام کر رہے ہیں، جہاں گندے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام موجود نہیں۔

کئی حکام کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے مسلح لوگوں نے ڈیم سے صاف پانی کی فراہمی روک رکھی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف پانی کی کمی ہوئی ہے بلکہ علاقے میں آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلاب نے پینے کے صاف پانی کے نظام میں گندے پانی کو شامل کردیا ہے۔

فارن پالیسی سنٹر لندن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تجزیہ فراہم کرنے والے تجزیہ کار جیمس ڈینسلو نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہیضہ کا پھوٹ پڑنا واضح کرتا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح کیا ہونی چائہے۔

XS
SM
MD
LG