رسائی کے لنکس

سال 2010 میں نسبتاً کم سویلین اموات

  • ایڈورڈ یرانیئین

سال 2010 میں نسبتاً کم سویلین اموات

سال 2010 میں نسبتاً کم سویلین اموات

برطانیہ میں قائم ایک غیر تجارتی گروپ نے اطلاع دی ہے کہ 2010 میں عراق میں سویلین اموات کی تعداد 2003 میں اس ملک پر حملے کے بعد سب سے کم رہی ۔ تا ہم،اس گروپ کا خیال ہے عراق میں ایک مخصوص قسم کا تشدد جاری رہے گا اگرچہ اس کی شدت زیادہ نہیں ہوگی۔

ایسا لگتا ہے کہ 2003 میں امریکہ کے حملے کے بعد سے اب تک ، عراق میں 2010 میں سب سے کم سویلین اموات ہوئیں۔ عراق باڈی کاؤنٹ نامی تنظیم کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، پچیس دسمبر 2010 تک 3,976 سویلین اموات ہو چکی تھیں جب کہ 2009 میں یہ تعداد 4,680 تھی۔ رپورٹ کے مطابق حکام کہتے ہیں کہ اس سال دو تہائی سویلین اموات فرقہ پرست یا عراق میں القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کی بمباری کی وجہ سے ہوئیں ۔ اس سال امریکی فوجوں کی براہ راست کارروائی کے نتیجے میں 32 سویلین اموات ہوئیں جب کہ 2009 میں یہ تعداد 64 تھی۔ اگست کے آخر میں امریکہ کی طرف سے جنگی کارروائیاں سرکاری طور پر ختم ہونے کے بعد، پہلے مہینے میں، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد نصف ہو گئی اور سال کے آخر تک کم سطح پر رہی ۔

عراق کے نیشنل میڈیا سینٹر کے ہاشم ال رکابی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بغداد میں اور ملک کے دوسرے حصوں میں مجموعی طور پر سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے کیوں کہ سکیورٹی فورسز نے کئی بڑے دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ انھوں نے کہا’’عراقی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے کئی سرغنوں کو گرفتار کیا ہے اور القاعدہ کے کئی نیٹ ورکس کو جو بغداد، دیالہ، انبار صوبے اور موصل میں سرگرم تھے ، درہم برہم کر دیا ہے ۔ان کارروائیوں کی وجہ سے سکیورٹی بہتر ہو گئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ اب جب کہ عراق میں بالآخر قومی حکومت کی تشکیل ہو چکی ہے، سکیورٹی فورسز القاعدہ کے باقی ماندہ عناصر کا بھی صفایا کر دیں گی۔‘‘

لیکن عراق باڈی کاؤنٹ نے کہا ہے کہ عراق میں 2010 کے پہلے اور دوسرے نصف حصے میں تشدد کی سطح تقریباً ایک جیسی تھی جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سکیورٹی کی حالت میں بہتر ی نہیں آئی ہے ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے کے دوران صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی میں اور موصل میں ہونے والے حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں، ملک کے اندر تشدد کے واقعات ہوتے رہیں گے۔

دمشق میں انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے پیٹر ہرلنگ کا خیال ہے کہ عراق نے 2006 اور 2007 کے تاریک دور کو جب ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کا دور دورہ تھا، بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔’’عراق 2006 اور 2007 کے ہولناک خونی دور سے نکل رہا ہے اور اب حالات میں ایسی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن سے سویلین آبادی کو کسی قدر استحکام اور تحفظ مل رہا ہے ۔ بغداد میں اور ملک کے دوسرے حصوں میں بم اب بھی پھٹتے ہیں لیکن اس کا اس وسیع خانہ جنگی سے کوئی تعلق نہیں ہے جس نے 2006 اور 2007 میں دارالحکومت بغداد اور ملک کے دوسرے حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔‘‘

ہرلنگ یہ بھی کہتے ہیں کہ عراق میں عام سکیورٹی کی حالت کی پیمائش کے لیئے ، ہلاک ہونے والوں کے اعداد و شمار پر انحصار کرنا ، بہت اچھا پیمانہ نہیں ہے ۔’’میرے خیال میں عراق میں مرنے والوں کی تعداد کو ہی معیار مقرر کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ عراق میں جنگی حالات تبدیل ہو رہے ہیں، اور یہ جھگڑا اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے ۔ اب اس کے ناپنے کا صحیح پیمانہ یہ ہے کہ کتنے قوانین منظور کیئے جا رہے ہیں۔ خاص طور سے تیل کے بارے میں، مصالحت سے متعلق،کرکوک جیسے شہر کی حیثیت کے بارے میں ، اور ملک میں سکیورٹی کے محکمے کے نگرانی جیسے شعبوں میں کتنی قانون سازی ہو رہی ہے ۔ ان تمام چیزوں کے لیئے ضروری ہے کہ تعداد یا مقدار سے ہٹ کر یہ دیکھیں کہ کس قسم کا کام ہو رہا ہے، اور میرے خیال میں ہمیں اب مرنے والوں کی گنتی کے چکر سے نکل آنا چاہیئے ۔‘‘

عراق باڈی کاؤنٹ کا ادارہ ایسے سویلین باشندوں کی ہلاکتوں کا حساب رکھتا ہے جو عراق پر امریکی فوجوں کے حملے کے بعد، فوج یا نیم فوجی دستو ں کی کارروا ئیوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ہلاکتوں کے اعداد و شمار میڈیا کی رپورٹوں سے لیئے جاتے ہیں جن کی تصدیق ہسپتالوں، مردہ خانوں، غیر سرکاری تنظیموں اور سرکاری اعداد و شمار سے کی جاتی ہے ۔

XS
SM
MD
LG