رسائی کے لنکس

عراقی فوج کا ابو بکر البغدادی کے قافلے پر بمباری کا دعویٰ


داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی فائل فوٹو
داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی فائل فوٹو

عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملے کےبعد ابو بکر البغدادی کو ایک گاڑی کے ذریعے جائے حادثہ سے نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے اور اس کے حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

عراقی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک کے مغربی صوبے انبار میں شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کے قافلے پر بمباری کی ہے۔

عراقی فوج کی جانب سے اتوار کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے "دہشت گرد ابو بکر البغدادی کے قافلے کو شام کی سرحد کے نزدیک نشانہ بنایا۔"

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ البغدادی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قافلے کی صورت میں عراق کے شہر کربلا جارہا تھا جہاں اسے داعش کےکمانڈروں کے ایک اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔

عراقی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے اجلاس کے مقام پر بھی بمباری کی ہے جس میں، بیان کے مطابق، داعش کے کئی رہنما ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملے کےبعد ابو بکر البغدادی کو ایک گاڑی کے ذریعے جائے حادثہ سے نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے اور اس کے حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

امریکی حکام نے عراقی فوج کے اس نئے دعوے سے متعلق تاحال کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

داعش نے گزشتہ سال شام اور عراق کے سنی اکثریتی علاقوں پر قبضے کے بعد وہاں اپنی خلافت قائم کرتے ہوئے ابو بکر البغدادی کو خلیفہ قرار دے دیا تھا۔ ان میں سے بیشتر علاقے اب بھی شدت پسند تنظیم کے قبضے میں ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دونوں ملکوں میں داعش کے ٹھکانوں پر گزشتہ کئی ماہ سے جاری فضائی حملوں اور عراقی اور کرد فوج کی زمینی پیش رفت کے باوجود داعش اب بھی شام اور عراق کے کئی علاقوں میں ایک موثر قوت کے طور پر موجود ہے۔

عراقی فوج اس سے قبل بھی فضائی حملوں میں البغدادی کو ہلاک یا زخمی کرنے کا دعویٰ کرچکی ہے جن کی یا تو تصدیق نہیں ہوسکی تھی یا شدت پسندوں نے ان کی تردید کردی تھی۔

XS
SM
MD
LG