رسائی کے لنکس

عراق: مقتدیٰ الصدر کا سیاست سے سبکدوشی کا اعلان


مقتدیٰ الصدر (فائل فوٹو)

مقتدیٰ الصدر (فائل فوٹو)

سخت گیر موقف رکھنے والے اس شیعہ رہنما کا کہنا تھا کہ وہ فلاحی کاموں میں مصروف چند مراکز کے علاوہ اپنے تمام دفاتر بند کر رہے ہیں۔

عراق کے ایک بنیاد پرست شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اتوار کو ان کی ایک ویب سائیٹ پر ہاتھ سے تحریر کردہ بیان میں انھوں نے ’’تمام سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی‘‘ کا اعلان کیا۔

ان کے بقول ’’آئندہ کوئی بھی گروپ ہماری نمائندگی نہیں کرے گا۔‘‘

مقتدیٰ الصدر اور ان کا ملیشیا گروپ ’’مہدی آرمی‘‘ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد منظر عام پر آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ فلاحی کاموں میں مصروف چند مراکز کے علاوہ اپنے تمام دفاتر بند کر رہے ہیں۔

تاحال مقتدیٰ الصدر کی طرف سے اچانک سیاست سے کنارہ کشی کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔

ان کی ’’مہدی آرمی‘‘ پر 2006 اور 2007ء میں فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں سنیوں پر تشدد اور متعدد کو ہلاک کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے پر مقتدیٰ الصدر ایران فرار ہوگئے تھے۔

بعد ازاں ان کے گروپ نے غیر مسلح ہونے کا اعلان بھی کیا اور 2010ء میں وزیراعظم نورالمالکی کی حمایت کی اور ان کی حکومت میں بھی شامل رہا۔

تاہم بعد میں ان کے وزیراعظم کے ساتھ اختلافات بھی سامنے آئے۔
XS
SM
MD
LG