رسائی کے لنکس

عراق کے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی مسلح گروہ نے نو ماہ سے اس کی تحویل میں موجود سابق امریکی فوجی کو رہا کرنے کے بعد اُسے اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا ہے۔

عراقی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے مناظر میں امریکی شہری رینڈی مائیکل ہلٹز کو الصدر کی تحریک سے منسلک دو قانون سازوں کے ہمراہ بیٹھے دیکھایا گیا۔

ایک قانون ساز ماہا الدوری نے بتایا کہ ہلٹز کی رہائی کے بدلے کوئی معاوضہ وصول نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہلٹز کی رہائی ’’اُس کے اہل خانہ کے لیے ایک تحفہ ہے‘‘ اور اس کا مقصد دنیا کے سامنے ’’اسلام کا اصل رُخ پیش کرنا ہے‘‘۔

ہلٹز نے بغداد کے علاقے ’’گرین زون‘‘ سے باہر جلدی میں بلائی گئی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں 2003ء میں عراق میں تعینات کیا گیا تھا جہاں اُنھوں نے 15 ماہ تک بطور فوجی خدمات سر انجام دیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جون 2011ء میں اغواء ہونے سے پہلے تک وہ ’’نجی حیثیت‘‘ میں عراق میں موجود تھے۔ ہلٹز کو اغواء کرنے والوں کا تعلق ’پرومِسڈ ڈے بریگیڈ‘‘ سے تھا جو امریکہ مخالف مذہبی رہنما کی زیر قیادت سرگرم ’مہدی آرمی‘ کی ایک شاخ ہے۔

الصدر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نیوز کانفرنس کے فوری بعد ہلٹز کو گرین زون منتقل کر کے اقوام متحدہ کے مشن کے سپرد کر دیا گیا، جہاں سے اُنھیں ہفتہ کو دیر گئے امریکی سفارت خانے پہنچا دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG