رسائی کے لنکس

عراق: صوبہ دیالہ میں کار بم دھماکہ، 115 افراد ہلاک


اقوام متحدہ کے نمائندہٴخصوصی برائے عراق، جان کوبیس نے ہفتے کے روز بتایا کہ یہ ’وحشتناک خونریزی مہذب اقدار کی تمام حدیں پھلانگ چکی ہے‘

عراقی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی صوبے، دیالہ میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں 115 افراد ہلاک ہوئے، جِن میں خواتین اور بچے شامل تھے؛ اور جب سے داعش نے عراق کے ایک وسیع رقبے پر دھاوا بولا ہے، اِن دھماکوں کو مہلک ترین قرار دیا جا رہا ہے۔

زیادہ تر شیعہ آبادی والے، خان بنی سعاد نامی قصبے کے ایک بازار میں جمعے کے روز ہونے والے دھماکے میں کم از کم 170 افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے یہ بات نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی، کیونکہ اُنھیں ابلاغ عامہ کے ذرائع سے گفتگو کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

دھماکے سے قبل، ماہ رمضان کے اختتام پر متعدد لوگ عید کی تیاری کے لیے بازار میں خرید و فروخت میں مصروف تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ دھماکے کے باعث متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں، کچھ افراد ملبے تلے دب گئے، جب کہ کئی گلیوں میں مٹی کا ڈھیر لگ گیا ہے۔ اہل کار ابھی تک ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
عراقی پارلیمان کے اسپیکر، سالیم الجبوری کے بقول، حملے کے تانے بانے فرقہ واریت سے جا ملتے ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ دیالہ کی سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنے کے داعش کے تمام حربوں کو ناکام بنایا جائے۔

اقوام متحدہ کے نمائندہٴخصوصی برائے عراق، جان کوبیس نے ہفتے کے روز بتایا کہ یہ ’وحشتناک خونریزی مہذب اقدار کی تمام حدیں پھلانگ چکی ہے‘۔

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

اُنھوں نے اپنے سماجی ویب سائٹس پر کہا ہے کہ حملے کا نشانہ اہل تشیع تھا۔

XS
SM
MD
LG