رسائی کے لنکس

ہلاکتوں کے باوجود بڑی تعداد میں ووٹنگ، عراقی انتخابات، 38 ہلاک

  • ب

یہ جمہوری عمل امن وامان برقرار رکھنے کے حوالے سے جنگ سے متاثرہ عراق کی صلاحیتوں اور 2003 ء میں امریکہ کی قیادت میں حملے کے بعد انتقال اقتدار کی کوششوں کے لیے ایک کڑاامتحان سمجھا جار رہا ہے۔

کم سے کم 25 افراد کی ہلاکت کے باوجود اتوار کے روزعراق میں لوگ بھاری تعداد میں ووٹ ڈالنے پولنگ سٹیشنوں پر پہنچے۔ ملک میں اہل ووٹروں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ ہے جو پارلیمان کی 325 نشستوں کے لیے چھ ہزارسے زائد اُمیدوارں میں سے اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ وزیر اعظم نوری المالکی بھی انتخابات میں ایک اہم امیدوار ہیں۔

پارلیمانی انتخابات کے موقع پر پولنگ سٹیشنوں کی حفاظت کے لیے غیر معمولی سخت اقداما ت کیے گئے ہیں جبکہ عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیےلاکھوں عراقی فوجی اور پولیس اہلکار سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ دارالحکومت بغداد کا ہوائی اڈہ بند اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدو رفت پر پابندی لگانے کے علاوہ ایران اور شام کے ساتھ ملک کی سرحدوں پر بھی سکیورٹی سخت کی گئی ہے۔

لیکن اس کے باوجود ووٹنگ کا عمل شروع ہوتے ہی بغداد میں حکام نے تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاکت کی اطلاعات دی ہیں۔ ان میں زیادہ ہلاکتیں اُس وقت ہوئیں جب ایک عمارت کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے مختلف عمارتوں پر کئے گئے جن میں برطانوی اور امریکی سفارت خانے اور گرین زون شامل ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ووٹر اکژیتی شیعہ برادری کی نمائندگی کرنے والے تین بڑے سیاسی اتحادوں کے اُمیدواروں میں سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ ان میں وزیر اعظم کی قیاد ت میں سٹیٹ آف لا اتحاداور سابق وزیراعظم ایاد علاوی کے عراقیہ بلاک نے ملک کے سنی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کوبھی اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا تھا۔

تیسرا سیاسی اتحاد عراقی نیشنل الائنس ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ ا س کے علاوہ امریکہ مخالف مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے پیروکاربھی اس سیاسی اتحاد کی حمایت کر رہے ہیں۔ دنیا کے14ممالک میں مقیم لاکھوں عراقیوں کے علاوہ عراقی فوجی، پولیس، طب کے شعبے سے وابستہ عملہ، مریض اور قیدی پہلے ہی اپنے ووٹ کا حق استعمال کر چکے ہیں۔

2003 ء میں امریکی قیادت میں عراق پر ہونے والے حملے میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد اتوار کو ہونے والے ملک کے دوسرے پارلیمان انتخابات ہیں۔ اقوام متحدہ، عرب لیگ اور دوسری بین الاقوامی تنظیمیں ان انتخابات کی نگرانی کر رہی ہیں۔

2005 ء کے انتخابات کے برعکس اس مرتبہ کئی سنی عراقیوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ سنی تنظیموں نے اُس وقت عراق میں ہونے والے انتخابات کابائیکاٹ کیا تھا جس نے شیعہ تنظیموں کوفتح اور اقتدار سنبھالنے کو موقع فراہم کیا۔ لیکن اس کی وجہ سے ملک میں سنی شورش پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوئے اور ملک میں تشدد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

XS
SM
MD
LG