رسائی کے لنکس

عراق نے ابتدائى انتخابی نتائج کا اعلان ملتوی کردیا


عراق کے الیکشن کمیشن نے اتوار کے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائى نتائج کا اعلان ملتوی کردیا ہے اس لیے کہ اُس کہنا ہے کہ اُس نے ابھی تک کافی ووٹوں کی گنتی مکمل نہیں کی ہے۔

عراق کے خود مختار الیکشن کمیشن کے ایک ترجمان نے منگل کے روز کہا ہے کہ کمیشن 30 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل کرتے ہی کوئى اعلان کرے گا۔عہدے داروں نےکہا ہے کہ انہیں ابتدائى نتائج کا اعلان کرنے کے لیے بدھ یا جمعرات تک گنتی کی اُس حد تک پہنچ جانا چاہئیے۔

عراقی عہدے دار بغداد اور کچھ صوبوں کے ابتدائى انتخابی نتائج جمعرات کے روز شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔عراقی دارالحکومت کو پارلیمنٹ کی 325 نشستوں کے لیے مختلف سیاسی پارٹیوں اور پارٹیوں کے اتحادوں کے درمیان اس انتخابی مقابلے میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے کہ تقریباً 20 فیصد پارلیمانی نشستیں صرف دارالحکومت کے انتخابی حلقوں کی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز انتخابات کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عراق کے قومی اتحاد اور آزادی کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔15 رُکنی کونسل نے کہا ہے کہ عراقیوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک پُر امن اور سب کو شاملِ حال رکھنے والے سیاسی عمل کو جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔

انتخابات میں مختلف پارٹیوں اور اتحادوں سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار سے زیادہ امیدواروں نے حصّہ لیا ہے ۔ توقع نہیں کہ کوئى واحد پارٹی یا اتحاد پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرسکے گا ۔ اورنئى مخلوط حکومت بنانے کے لیے مختلف پارٹیوں پر مشتمل کسی اتحاد کو تشکیل دینے میں کئى مہینے لگ سکتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نوری المالکی کو اُمید ہے کہ وہ شیعہ پارٹیوں کے زیرِ قیادت اپنے اتحاد کو بدستور برسرِ اقتدار رکھ سکیں گے۔ اُنہیں ایک طرف عراق کے قومی اتحاد میں اپنے سابق اتحادیوں کے چیلنج کا سامنا ہے تو دوسری طرف شیعہ اور سنّی سیاست دانوں کا سیکیولر گروپ ” عراقیہ “ انہیں للکار رہا ہے۔ اس گروپ کی قیادت سابق وزیرِ اعظم ایاد علاوی کررہے ہیں۔

عراقیوں نےاتوار کے روز اُن خوں ریز حملوں اور بموں کے دھماکوں سے خوف زدہ ہوئے بغیر گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالے تھے، جن میں 38 لوگ ہلاک ہوئےتھے ۔اور بیشتر ہلاکتیں بغداد میں ہوئى تھیں۔

الیکشن کمیشن کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس بار ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد ، پچھلے سال کے صوبائى انتخابات کے ووٹروں سے بڑھ گئى۔ لیکن 2005 کے پارلیمانی انتخابات کے ووٹروں سے کم رہی۔

ملک میں دوسرے قومی انتخابات میں مجموعی طور پر ووٹ دینے کے اہل 62 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔

پیر کے روز واشنگٹن میں وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے انتخابات کو عراق کے لوگوں اور امریکہ اور عراق کے تعلقات کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG