رسائی کے لنکس

عراقی انتخابات کے نتائج متوقع


عراقی انتخابات کے نتائج متوقع

عراقی انتخابات کے نتائج متوقع

عراقی کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ جمعے کے روز انتخابات کے مکمل نتائج جاری کر دے گا۔ ان انتخابات میں دو اتحادی دھڑوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور اندیشہ ہے کہ نتائج کے اعلان کے بعد بدامنی پھوٹ سکتی ہے۔

انتخابی حکام نے کہا ہے کہ پارلیمان کی 235 نشستوں پر ہونے والے مقابلے میں وزیرِ اعظم نوری المالکی کے انتخابی اتحاد اور ان کے حریف سابق وزیرِ اعظم ایاد علاوی کے اتحاد کے درمیان صرف دو نشستوں کا فرق ہے۔

جمعے کے روز وسطی بغداد میں کڑی سیکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے، جہاں المالکی کے 300 کے قریب حامیوں نے ایک جلوس نکالا اور ووٹوں کی دستی گنتی کا مطالبہ کیا۔ عراقی انتخابی کمیشن نے وزیرِ اعظم المالکی کی طرف سے دوبارہ گنتی کا مطالبہ رد کر دیا ہے، البتہ اس نے کہا ہے کہ وہ دھاندلی کی شکایات کا جائزہ لے گا۔

انتخابات کے نتائج کے بعد نوری المالکی کے ’دولت القانون‘ اتحاد یا ایاد علاوی کے’عراقیہ‘ اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے کئی ہفتے یا مہینے درکار ہوں گے۔

علاوی کو عراق میں سنی اقلیت کی حمایت حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ اگر اکثریتی شیعہ جماعتوں نے انہیں دبانے کی کوشش کی تو ملک میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG