رسائی کے لنکس

عراق میں حملو ں میں اضافے سے فوجی انخلاء کا عمل متاثر نہیں ہوگا


عراق میں حملو ں میں اضافے سے فوجی انخلاء کا عمل متاثر نہیں ہوگا

عراق میں حملو ں میں اضافے سے فوجی انخلاء کا عمل متاثر نہیں ہوگا

امریکہ نے کہا ہے کہ عراق میں ہونے والے حالیہ ہلاکت خیز حملوں سے اگست کے آخر تک ملک سے امریکی افواج کے انخلاء کامنصوبہ تبدیل نہیں ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ربراٹ گبزکا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ توقع کر رہے تھے کہ عسکر یت پسند اس موقع کا فائدہ اٹھا کر عراق میں ہونے والے فوجی اور سیاسی ترقی کے عمل کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی قیادت نے عراق میں اپنے سفیر کرسٹوفر ہل اور وہاں امریکی فوج کے سربراہ سے بھی اس صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

خیال رہے کہ پچھلے پانچ دنوں میں عراق میں دارالحکومت بغداد اور اس کے گردو نواح میں ہونے والے بم دھماکوں اور تشددکے دوسر ے واقعات میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ منگل کے روز ہونے والے یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں بغداد میں کم از کم 50 لوگ ہلاک اور 140 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں زیادہ تر شعیہ آبادی والی رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن کسی نے ان واقعات کی ذمہ داری کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ حکام ا س کی ذمہ داری عراق میں القاعدہ پر عائد کرتے ہیں۔

ملک میں ایک ماہ قبل عام انتخابات ہو ئے تھے اورسرکاری عہدے داروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انتخابات کے بعدعراق میں امن وامان کی صورت حال بگڑسکتی ہے۔ عام انتخابات میں ملک کے سابق وزیر اعظم عیاد علاوی کی قیادت میں بننے والے سیکولر اتحاد کو وزیر اعظم نوری المالکی کے شعیہ اتحاد کے مقابلے میں دو نشستوں کی برتری حاصل ہوئی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات میں کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے اس لیے عراق میں نئی حکومت بنانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

عیاد علاوی نے منگل کو ہونے والے بم دھماکوں کے بعد وزیر اعظم مالکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس کا جواب دیتے ہیں ایک بیان میں تمام پارٹیوں اور سیاسی قوتوں پر زور دیا تھا کہ وہ متحد ہو کر سکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے خلاف مدد کریں جو عراق کو حالت انتشارکی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG