رسائی کے لنکس

عراق: شراکت اقتدار کا معاہدہ، نوری المالکی بدستور وزیراعظم


)

)

جمعرات کے روز عراقی قانون سازوں نے آٹھ ماہ سے جاری سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے نمایاں پیش رفت کی۔ انہوں نے کرد لیڈرجلال طالبانی کو دوبارہ صدر کے طورپر منتخب کیا۔ اور انہوں نے جواباً اپنے عہدےپر موجود شیعہ لیڈر نوری المالکی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کردیا۔

عراقی قانون سازوں نے ہفتے روز نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ایک سیاسی معاہدے کے خاکے کی منظوری دےدی، اگرچہ اس سے قبل سنی حمایت یافتہ عراقیہ بلاک نے جمعرات کو واک آؤٹ کیا تھا اور اتحاد کے لیڈر نے سخت بیانات دیے تھے۔

قانون سازوں نے ہفتے کے روز پارلیمنٹ کے ایک سیشن میں اس منصوبے کی منظوری دی اور عید کے بعد 21 نومبر کو دوبارہ اکھٹے ہونے پر اتفاق کیا۔

ہفتے کی صبح عراقیہ بلاک کے ارکان نے کہا کہ وہ اس منصوبے کی توثیق کریں گے۔ انہوں نے یہ منظوری اس کے دو روز کے بعد دی جب بلاک کے 91 پارلیمانی ارکان میں سے تقریباً دو تہائی نے پارلیمنٹ سے یہ کہتے ہوئے واک آؤٹ کیا تھا کہ ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے۔ ہفتے کے روز عراقیہ اتحاد کے ترجمان حیدر المولا نے کہا واک آؤٹ ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔

جمعے کے روز سی این این کے ساتھ اپنے انٹرویو میں عراقیہ بلاک کے لیڈر ، سابق وزیر اعظم ایاد علاوی نے شراکت اقتدار کےخیال کو مردہ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے عراقیہ اتحاد کے کچھ ارکان ممکن ہے کہ نئی حکومت میں شمولیت اختیار کرلیں، لیکن انہوں نے کہا کہ ان سمیت اتحاد کے زیادہ تر ارکان حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مسٹر علاوی نے ہفتے کے روز ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ ان کی پارٹی کے کچھ اراکین کا کہناتھا کہ وہ لندن چلے گئے ہیں۔

جمعرات کے روز عراقی قانون سازوں نے آٹھ ماہ سے جاری سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے نمایاں پیش رفت کی۔ انہوں نے کرد لیڈرجلال طالبانی کو دوبارہ صدر کے طورپر منتخب کیا۔ اور انہوں نے جواباً اپنے عہدےپر موجود شیعہ لیڈر نوری المالکی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کردیا۔

جمعرات کی صبح پارلیمنٹ کے ارکان نے عراقیہ اتحاد کے رکن اسامہ النجفی کو سپیکر کے طورپر منتخب کیا۔ شراکت اقتدر کے منصوبے کے تحت مسٹر علاوی نئی قائم کی جانے والی نیشنل سیکیورٹی کونسل کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔

ہفتے کے سیشن میں کئی ارکان نے یکے بعد دیگرے تعاون کی اہمیت اور ضرورت پر پارلیمنٹ میں تقریریں کیں۔

عراقیہ بلاک نے مارچ کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشتیں حاصل کی تھیں ، تاہم ان کے پاس اتنی تعداد نہیں تھی کہ وہ اپنی حکومت قائم کرسکتے۔

عراقیہ اتحاد کی سیاسی شراکت دار وں کی تلاش میں ناکامی کے نتیجے میں مسٹر مالکی امریکہ مخالف شیعہ عالم مقتدرہ الصدر کی مدد سے حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG