رسائی کے لنکس

حکومت شورش پسندوں سے لڑنے والوں کی مدد کرے گی: وزیر اعظم نوری المالکی


وزیر اعظم نوری المالکی

وزیر اعظم نوری المالکی

عراق کے شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی نےایک سنی ملیشیا کی جانب سے ملک میں بم دھماکوں کے حالیہ سلسلے کے پیچھے کارفرما شورش پسند تنظیموں سے مقابلے کی کوششوں میں مدد کا وعدہ کیا ہے۔

پیر کے روز بغداد میں ایک تقریب کے دوران مسٹر مالکی نے عراق کے بیٹوں یا ساہوا نامی سنی ملیشیا کے اران سے کہا کہ ان کی حکومت اور سیکیورٹی سروسز ان کا ساتھ دیں گی۔ انہوں نے یہ بات قومی مصالحت کی ایک کانفرنس میں کہی ۔

ساہوا ملیشیا میں بہت سے ایسے سابق شورش پسند شامل ہیں جنہوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے 2006ء اور 2007ء میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لیے امریکی اور عراقی فورسز کی مدد کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔

وزیر اعظم نوری المالکی نے گذشتہ سال اس وقت کچھ سنی ملیشیاؤں کے ساتھ اتحاد کیاتھا جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ ان کے گروپ میں القاعدہ اور معزول عراقی راہنما صدام حسین کے وفادار گھس آئے ہیں۔

ساہوا ملیشیا کو ابتدا میں امریکی فوج سے تنخواہ ملتی تھی۔ گذشتہ سال ان کی تنخواہوں کی ذمہ داری عراقی حکومت نے سنبھال لی ۔

پیر کے روز تشدد کے ایک واقعہ میں حکام نے کہا ہے کہ شمالی شہر موصل میں گشت پر مامور ایک پولیس کے دستے پر کاربم کے ایک حملے میں ایک پولیس اہل کار اور ایک عام شہری ہلاک جب کہ 21 افراد زخمی ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG