رسائی کے لنکس

تنظیم کا کہنا ہے کہ عراق کی حکومت اور دیگر غیر سرکاری تنظمیں ان افراد کی مدد کے لیے کام کر رہی ہیں لیکن صورتحال تیزی سے خراب ہوتی جارہی ہے۔

مہاجرین سے متعلق عالمی ادارے ’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘ یعنی (آئی او ایم) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عراق کے مشرقی شہر موصل پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد یہاں سے تقریباً پانچ لاکھ سے زائد افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

آئی او ایم نے بدھ کے روز کہا ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد یا تو موصل میں ہی کسی محفوظ مقام یا پھر صوبہ نینوا کے دیگر علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں یا پھر قریبی کرد صوبے اربیل چلے گئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ عراق کی حکومت اور دیگر غیر سرکاری تنظمیں ان افراد کی مدد کے لیے کام کر رہی ہیں لیکن صورتحال تیزی سے خراب ہوتی جا رہی ہے۔

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضے کے بعد شدت پسندوں نے تیل کی تنصیبات والے علاقے بیجی کی طرف پیش قدمی کی ہے اور اطلاعات کے مطابق وہاں عدالت کی ایک عمارت اور ایک پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کردیا۔

تیل کی تنصیب کی حفاظت پر لگ بھگ 250 محافظ تعینات ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے قبائلی عمائدین کو ان گارڈز کے پاس بھیجا تاکہ وہ انھیں یہ مقام چھوڑنے کے لیے قائل کر سکیں۔

خبر رساں ادارے "رائٹرز" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ محافظوں نے اس شرط پر یہ تنصیب چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ انھیں بحفاظت دوسرے علاقے میں منتقل ہونے دیا جائے۔

بیجی کے ایک رہائشی جاسم القیسی نے رائٹرز کو بتایا کہ شدت پسندوں نے مقامی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مزاحمت کرنے کی کوشش نہ کریں۔

" گزشتہ روز غروب آفتاب کے وقت شدت پسندوں نے بیجی کے ایک سب سے با اثر شیخ سے فون پر رابطہ کر کے بتایا کہ ہم مرنے یا بیجی پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں اور ہم تمہیں مشورہ دیتے ہیں تم پولیس اور فوج میں اپنے بیٹوں سے کہو کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔"

منگل کو دیر گئے تقریباً 60 گاڑیوں پر سوار شدت پسند بیجی میں داخل ہوئے اور یہاں کے جیلوں میں قید لوگوں کو رہا کرتے رہے۔

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ ملک "ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔" انھوں نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا کہا ہے۔

بیجی میں تیل کی تنصیب عراق کی سب سے بڑی ریفائنری ہے جہاں سے ملک کے اکثر صوبوں کو تیل فراہم کیا جاتا ہے۔

ماضی میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ان سنی شدت پسندوں کا تعلق تنظیم دولت اسلامیہ فی عراق والشام (آئی ایس آئی ایل) سے ہے اور انھوں نے منگل کو سکیورٹی فورسز کو پسپا کر کے موصل پر قبضہ کر لیا تھا۔

یہ شدت پسند شام اور عراق کے سنی اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک علیحدہ ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کے بقول شریعت کا نفاذ کیا جاسکے۔

ادھر امریکہ نے موصل پر شدت پسندوں کے قبضے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ باغی عراق کے استحکام سمیت پورے مشرق وسطیٰ کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور بغداد میں امریکی عہدیدار شدت پسندوں کی پیش قدمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG