رسائی کے لنکس

عراقی باغی مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ: امریکہ


موصل

موصل

محکمہٴخارجہ نے موصل پر باغیوں کے قبضے پر ’انتہائی تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوطرفہ سلامتی کے سمجھوتے کے تحت، امریکہ نے عراقی حکومت کو ’تمام ضروری امداد‘ فراہم کرنے کا عہد کیا ہے

امریکہ کا کہنا ہے کہ موصل کے عراقی شہر پر شدت پسندوں کے قابض ہونے پر اُسے ’انتہائی تشویش‘ ہے، اور یہ کہ باغی نہ صرف عراق کے استحکام بلکہ سارے مشرق وسطیٰ کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور بغداد کے امریکی اہل کار القاعدہ کے دھڑے کی پیش قدمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جسے عراق کی اسلامی ریاست اور بحیرہٴروم کے بکھرے ہوئے دھڑوں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

دونوں ملکوں کے مابین سلامتی کے سمجھوتے کے تحت، امریکہ نے عراقی حکومت کو ’تمام ضروری امداد‘ فراہم کرنے کا عہد کیا۔

عراق میں اب بھی امریکہ کی وسیع سفارتی موجودگی باقی ہے، لیکن امریکہ نے 2011ء کے اواخر میں وہاں سے اپنی تمام لڑاکا فوج واپس بلا لی تھی۔

انخلا کے اقدام سے وہاں تقریباً ایک عشرے سے جاری امریکی جنگ کا خاتمہ ہوا، جس دوران عراقی مطلق العنان صدام حسین کو شکست ہوئی، اور بالآخر اُسے پھانسی کی سزا ہوئی۔

بعد ازاں، باغیوں سے لڑنے کے لیے، امریکہ بغداد کو ہتھیاروں کی رسد فراہم کرتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے موصل کے باغیوں کے قبضے میں چلے جانے پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے تمام عراقی سیاسی راہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
XS
SM
MD
LG