رسائی کے لنکس

ابھی عراق میں بہت کچھ کرنا باقی ہے: صدر اوباما


صدر اوباما نےعراق میں امریکی فوجیوں کے جنگی مشن کے اختتام پرکہا ہے کہ ابھی عراق میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ان کا کہناتھاکہ صدر اوباما نے فوجیوں سے کہا کہ اگرچہ جنگی مرحلہ مکمل ہوچکاہے، لیکن عراق میں ابھی امریکہ کا کردار ختم نہیں ہوا اور امریکہ عراقیوں کو مشاورت اور تریبت کی فراہمی جاری رکھے گا۔

صدر اوباما نےعراق میں امریکی فوجیوں کے جنگی مشن کے اختتام پرکہا ہے کہ منگل کے روز اس سلسلے میں قوم سے ان کا خطاب کا مطلب عراق میں ہماری فتح کا تکمیل نہیں ہے۔

انہوں نے منگل کے روز ٹیکساس کے بلس فوجی مرکز میں فوجیوں سے کہا ہے عراق میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس فوجی مرکز کے بہت سے فوجی عراق کی سات برس کی طویل جنگ کے دوران وہاں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

مسٹر اوباما عراق میں جنگی مشن کا مرحلہ ختم ہونے پر آج شام وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ عراق میں امریکی فوج کے مشاورتی اور تربیتی کردار کے خدوخال پر روشنی ڈالیں گے۔

صدر اوباما نے فوجیوں سے کہا کہ اگرچہ جنگی مرحلہ مکمل ہوچکاہے، لیکن عراق میں ابھی امریکہ کا کردار ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عراقیوں کی مشاورت اور انہیں تریبت کی فراہمی کی بہت اہمیت ہے۔

ابھی عراق میں بہت کچھ کرنا باقی ہے: صدر اوباما

ابھی عراق میں بہت کچھ کرنا باقی ہے: صدر اوباما

منگل کی صبح صدر اوباما نے سابق صدر جارج ڈبلیوبش سے فون پر گفتگو کی ، جنہوں نے امریکی قیادت میں عراق کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا ، جس کے نتیجے میں صدام حسین کے دور کا خاتمہ ہوا۔ وائٹ ہاؤس کے مشیروں کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان چند منٹ تک گفتگو ہوئی ، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں گئیں۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے ایک عہدےدار بن رہوڈز نے صدر اوباما کے ساتھ شریک سفر نامہ نگاروں کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے عراقی راہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ نئی حکومت کی تشکیل کی فوری اہمیت کا احساس کریں۔عراق میں مارچ کے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے، جس میں کسی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی تھی، سیاسی تعطل جاری ہے۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی سیکیورٹی فورسز اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کی مکمل ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

منگل کے روز قوم سے اپنے خطاب میں مسٹر مالکی نے کہا کہ عراق ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن عراقی راہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان دنوں عراق میں ہیں، بدھ کے روز فوجی کمانڈ کی تبدیلی کی سرکاری تقریب کی صدارت کریں گے۔

عراق کی سات سالہ جنگ میں 4400 امریکی فوجی ہلاک ہوئے اور تصادموں میں ایک لاکھ سے زیادہ عراقی لقمہ اجل بنے۔

اب عراق میں 50 ہزار سے کچھ کم امریکی فوجی باقی رہ گئے ہیں۔ جب کہ 2007ء میں یہ تعداد ایک لاکھ 70 ہزار تھی ۔ جو عراق میں کسی بھی وقت میں امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

عراق میں باقی رہ جانے والے امریکی فوجیوں کو جنگی کارروائیوں پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی تاوقتتکہ ان سے اس کی درخواست نہ کی جائے اور عراقی فورسز ان کے ہمراہ نہ ہوں۔

صدر اوباما اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ 2011ء کے اختتام تک تمام امریکی فورسز عراق سے نکال لی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG