رسائی کے لنکس

عراقی فوج میں ’پچاس ہزار گھوسٹ اہلکار‘:حیدر العابدی


عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی (فائل فوٹو)

عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی (فائل فوٹو)

عراقی وزیراعظم پہلے ہی کئی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو برخواست یا ریٹائرڈ کر چکے ہیں جو ان کے پیش رو نوری المالکی کے دور حکومت میں فوج میں خدمات سر انجام دے چکے تھے۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی نے کہا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملک میں پچاس ہزار فوجی ’’گھوسٹ‘‘ ہیں یعنی ان فوجیوں کو تنخواہیں تو دی جا رہی ہیں لیکن در حقیقت ملک کی مسلح افواج میں اُن کا کوئی وجود نہیں ہے۔

حیدر العابدی نے اتوار کو عراقی قانون سازوں سے گفتگو میں اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف ’کریک ڈاؤن‘ جاری رکھیں گے۔

’’گھوسٹ فوجیوں‘‘ کو ملنے والی تنخواہیں روک دی گئی ہیں۔

عراقی وزیراعظم پہلے ہی کئی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو برخواست یا ریٹائرڈ کر چکے ہیں جو ان کے پیش رو نوری المالکی کے دور حکومت میں فوج میں خدمات سر انجام دے چکے تھے۔

فرضی ناموں سے فوجیوں کی تنخواہیں اور دیگر مالی مراعات فوجی کمانڈر لے لیتے تھے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی عراق کے شمالی اور مغربی حصوں میں پیش قدمی کے بعد عراقی فوج میں بدعنوانی کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ کیوں کہ بعض علاقوں میں فوج کی طرف سے اُس طرح کی مزاحمت سامنے نہیں آئی جیسا کہ ایک پیشہ ور فوج کو کرنی چاہیئے تھی۔

دولت اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے امریکہ نے اپنے فوجی مشیر عراق میں بجھوائے ہیں جب کہ مقامی سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے شدت پسندوں کے اہداف پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے فضائی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ دفاع نے آئندہ سال عراقی فوجیوں کو جدید ہتھیاروں سے مسلح کرنے اور اُن کی تربیت کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی درخواست کی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں امریکہ پہلے ہی عراق میں 20 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔​

XS
SM
MD
LG