رسائی کے لنکس

عراق: فوجی افسران کے کورٹ مارشل کی منظوری


فائل

فائل

رمادی کے سقوط کی تحقیقات کرنے والے ایک سرکاری کمیشن نے شہر کی حفاظت پر مامور فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی تھی

عراق کے وزیرِاعظم حیدر العبادی نے رمادی سے فوجی دستوں کے انخلا کے ذمہ دار فوجی افسران کے کورٹ مارشل کی منظوری دیدی ہے جن کی پسپائی کے سبب شہر داعش کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

عراق کے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی پر رواں سال مئی میں اس وقت داعش نے قبضہ کرلیا تھا جب شہر کی حفاظت پر مامور فوجی دستے جنگجووں کی پیش قدمی کے خلاف معمولی مزاحمت کرنے کے بعد پسپا ہوگئے تھے۔

رمادی جیسے بڑے شہر پر اتنی آسانی سے داعش کا قبضہ عراقی حکومت کے لیے ایک اور دھچکا تھا جو ملک کے وسیع سنی اکثریتی علاقوں پر جنگجووں کے گزشتہ سال ہونے والے قبضے کو چھڑانے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

اس سے قبل عراقی فوج گزشتہ سال شمالی شہر موصل سے بھی داعش کی پیش قدمی کے خلاف کوئی بڑی مزاحمت کیے بغیر پسپا ہوگئی تھی جس کےبعد عراقی حکومت کو دارالحکومت بغداد اور ملک کے دیگر علاقوں کے دفاع کے لیے شیعہ ملیشیاؤں پر اپنا انحصار بڑھانا پڑا تھا۔

رمادی کے سقوط کی تحقیقات کرنے والے ایک سرکاری کمیشن نے شہر کی حفاظت پر مامور فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی تھی جسے اتوار کو جاری کیے جانے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق عراقی وزیرِاعظم نے منظور کرلیا ہے۔

وزیرِاعظم العبادی نے فوجی افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اس نئے قانون کی منظوری کے چند روز بعد کیا ہے جس کا مقصد بدعنوانی اور نااہلی کا شکار عراقی نظامِ حکومت میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرانا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عراق میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ تفریق اور سرکاری اداروں اور حکام کی نااہلی اور بدعنوانی کا اثر فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی پڑ رہا ہے جو داعش جیسی منظم اور متمول شدت پسند تنظیم کا مقابلہ نہیں کر پارہے۔

XS
SM
MD
LG