رسائی کے لنکس

عراق کے وزیر اعظم نے بدھ کو ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ایسا کرنا ملک کے آئین اور 30 اپریل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے خلاف ہوگا

عراق کے وزیراعظم نورالمالکی نے ملک میں ’ہنگامی‘ حکومت بنانے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

اُنھوں نے بدھ کو ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ایسا کرنا ملک کے آئین اور 30 اپریل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے خلاف ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پیر کو کہا تھا کہ عراقی رہنماؤں نے اُنھیں یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ حالیہ انتخابات کے بعد یکم جولائی تک نئی حکومت کی تشکیل کی ڈید لائن پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

صدر براک اوباما اور کیری دونوں عراق پر زور دیتے آئے ہیں کہ سنی اور کرد آبادی کی شمولیت سے حکومت بنائی جائے۔

نور المالکی کی حکومت کو ملک کی اقلیتوں کو قومی دھارے سے الگ کرنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے پر تنقید کا سامنا ہے۔

تاہم بدھ کو وزیراعظم نور المالکی نے اپنے خطاب میں ’اتحاد‘ پر زور دیا ہے۔

سنی شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ فی عراقی ولشام (داعش) کی حالیہ ہفتوں میں کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور جنگجوؤں نے ملک کے کئی شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ نے منگل کو کہا تھا کہ جون میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

XS
SM
MD
LG