رسائی کے لنکس

عراق: اپیل کورٹ نے 500 اُمیدواروں کے الیکشن لڑنے پر عائد پابندی کو ختم کردیا


عراق: اپیل کورٹ نے 500 اُمیدواروں کے الیکشن لڑنے پر عائد پابندی کو ختم کردیا

عراق: اپیل کورٹ نے 500 اُمیدواروں کے الیکشن لڑنے پر عائد پابندی کو ختم کردیا

ایک عراقی اپیل کورٹ نے اُن سینکڑوں اُمید واروں کو ملک کے پارلیمانی انتخابات میں حصّہ لینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے ، جن پر پہلے پابندی لگا دی گئى تھی کہ وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے۔اس اقدام کے نتیجے مارچ میں ہونے والے اہم انتخابات سے پہلے ملک میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

عراق کے الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اپیل کورٹ نے اُن 500 کے قریب اُمیدواروں پر عائد پابندی کو ختم کردیا ہے ، جنہیں سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کی بعث پارٹی کے ساتھ رابطہ رکھنے کے شبہے میں الیکشن کے لیے ناہل قرار دیا گیا تھا۔ لیکن الیکشن کمیشن کے ایک رُکن نے کہا ہے کہ جیتنے والے اُمید وار اُس وقت تک اپنا منصب نہیں سنبھال سکیں گے، جب تک یہ ثابت نہیں ہوجائے گا کہ خلافِ قانون پارٹی کے ساتھ اُن کا کوئى تعلق نہیں ہے۔حمدیہ الحسینی نے کہا ہے کہ اپیل کورٹ ،انتخابات کے مکمل ہونے تک، کسی انفرادی مقدمے کی سماعت نہیں کرے گی۔

اس پابندی نے عراق کے سنّی مسلمانوں کو برہم کردیا تھا جو ملک میں اقلیت میں ہیں اور انہوں نے اس اقدام کو شیعہ اکثریت کی جانب سنّیوں کو سیاسی اکھاڑے سے باہر کنارے پر بٹھا دینے کی ایک کوشش کہا تھا۔

عراقیوں نے اس بارے میں بھی تشویش ظاہر کی تھی کہ ان پابندیوں سے مارچ میں ہونے والے انتخابات کی قانونی حیثیت اور قومی مصالحت کی کوششیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

منگل کے روز امریکی صدر براک اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن نے عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ انہوں نے شفاف انتخابات اور اُن میں وسیع پیمانے پر مختلف لوگوں کی شرکت کی اہمیت پر گفتگو کی تھی۔

عراقی حکومت کی محاسبے اور انصاف کی کمیٹی نے جنوری میں 511 اُمید واروں کے خلاف پابندی عائد کی تھی۔

XS
SM
MD
LG