رسائی کے لنکس

پولیس کے ایک اہل کار نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہموی غارمہ کے قصبے میں واقع فوج کے ہیڈکوارٹرز سے ٹکرا دی، جہاں سرکاری افواج اور اتحادی ملیشیا اسلامی شدت پسند گروہ، داعش سے لڑ رہے ہیں

عراق کے دارالحکومت بغدا میں ہفتے کے روز ہونے والے ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم چھ فوجی ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق، یہ حملہ اُس وقت ہوا جب کینیڈا کے وزیر اعظم غیر اعلانیہ دورے پر عراق پہنچے۔

پولیس کے ایک اہل کار نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہموی غارمہ کے قصبے میں واقع فوج کے ہیڈکوارٹرز سے ٹکرا دی، جہاں سرکاری افواج اور اتحادی ملیشیا اسلامی شدت پسند گروہ، داعش سے لڑ رہے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں تین فوجی اور ملیشیا کے تین ارکان شامل تھے؛ جب کہ نو فوجی زخمی ہوئے۔

طبی پیشے سے وابستہ ایک اہل کار نے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔

دونوں عہدے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ تفصیل بتائی، کیونکہ وہ اطلاع جاری کرنے کے مجاز نہیں۔

امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے فضائی کارروائیوں کی حمایت سے عراقی سرکاری افواج غارمہ سے شدت پسندوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے مشرق میں واقع فلوجہ کے شہر پر داعش کا قبضہ ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران افواج کی پیش قدمی سست روی کا شکار رہی ہے۔

غارمہ پر قبضے کا حصول فلوجہ شہر اور اُس کے مضافات میں صورت حال کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے لازم قرار دیا جارہا ہے۔ فلوجہ عراقی دارالحکومت سے 65 کلومیٹر (40 میل) کے فاصلے پر واقع ہے، جس پر گذشتہ سال کے اوائل سے دولت اسلامیہ کا قبضہ ہے۔

دریں اثنا، ہفتے کو عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے بغداد آمد پر کینیڈا کے اپنے ہم منصب، اسٹیفن ہارپر کا خیرمقدم کیا۔

کینیڈا امریکی قیادت والے بین الاقوامی اتحاد کا رکن ہے، جو فضائی حملوں، تربیت اور اسلحے کی فراہمی میں عراقی فوج کی مدد کرتا ہے۔

العبادی نے اتحاد کے کردار کو 'انتہائی ضروری' قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر شدت پسندوں کے خطرے سے نمٹنے کی کوششوں میں شامل ہونے پر زور دیا، کیونکہ، بقول اُن کے، دہشت گردی نہ صرف عراق، بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہے۔

ہارپر نے عہد کیا کہ اُن کی حکومت عراق کی حمایت جاری رکھے گی، جس کے بعد وہ کرد حکام سے ملاقات کے لیے شمال کی جانب روانہ ہوگئے۔

العبادی نے اپنی افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے، عہد کیا کہ داعش کے زیر تسلط علاقوں کو جلد خالی کرالیا جائے گا۔ شدت پسند گروہ صوبہ انبار کے زیادہ تر رقبے اور عراق کے دوسرے بڑے شہر، موصل پر قابض ہے۔

بقول اُن کے، 'داعش اب پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہے، داعش اب کمزور ہوچکی ہے'۔

XS
SM
MD
LG