رسائی کے لنکس

عراقی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا حکم دے دیا


عراقی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا حکم دے دیا

عراقی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا حکم دے دیا

عراق میں حکومت سازی کے عمل میں آٹھ ماہ سے جاری تعطل کے بعد اتوار کو ملک کی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ اجلاس منعقد کرے اورپارلیمان کے لئے نیا سپیکر منتخب کرے۔

عراق میں حکومت سازی کے عمل میں آٹھ ماہ سے جاری تعطل کے بعد ملک کی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ اجلاس منعقد کرے اورپارلیمان کے لئے نیا سپیکر منتخب کرے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مدحت محمود نے اتوار کو عدالت کے فیصلے کے بارے میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتائیں۔

اپنے ایک حکم نامے میں ملک کی اعلیٰ عدالت نے پارلیمنٹ کے جون میں ابتدائی اجلاس میں پارلیمان کی کارروائی کو معطل کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا اور آئین کی شق 55کی روح سے پارلیمنٹ کو دوبارہ کام شروع کرنے کا حکم دیا ۔ عدالت کے حکم کے بعد اب قانون سازوں پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ پارلیمان کا اجلاس بلائیں ، سپیکر منتخب کریں اور کام دوبارہ شروع کریں ۔ اس کے بعدانہیں ملک کا صدر چننا ہوگا۔

قانون کے مطابق پارلیمان کے 325اراکین کو پہلے ہی اجلاس میں نیا صدر، نیا وزیراعظم اور نیا سپیکر منتخب کرنا چاہیے تھا۔ مگر مارچ کے انتخابات کے بعدسے اب تک صرف ایک ہی اجلاس ہو سکا ہے۔

اس فیصلے کے بعد عراقی پارلیمنٹ کے قائم مقام سپیکر فواد معصوم نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ چند روز میں پہلا اجلاس طلب کرنے کے لئے تاریخ کا اعلان کر دیں گے۔

مارچ کے انتخابات میں سابق وزیراعظم ایاد علاوی کے سنی اتحادعراقیہ نے وزیراعظم نوری المالکی کی جماعت کو شکست دی مگروہ حکومت سازی کے لئے درکار اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ اس خلا کی وجہ سے سنی اراکین نے پارلیمنٹ کی کارروائی معطل کر وا دی ۔ تب سے دونوں جماعتیں پس پردہ حکومت بنانے کی غرض سے مختلف جماعتوں سےحمایت حاصل کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔

نوری المالکی بارہا اصرار کرتے آئے ہیں کہ وہ نئی حکومت بنانے کے قریب ہیں مگر بہت سے ماہرین کا خیال ہے ان کے پاس حکومت سازی کے لئے کافی ووٹ نہیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG