رسائی کے لنکس

شام کے سرگرم کارکنان پر مشتمل تنظیم کے مطابق، 59 ہلاک شدگان میں زیادہ تر مرد تھے؛ اور یہ ہلاکتیں اُس وقت پیش آئیں جب سوق الحال کے قصبے کی ایک مصروف مارکیٹ اور حلب کے مضافانی علاقے الباب پر فضائی حملے کیے گئے۔۔ایک دھماکے میں مزید 12 افراد ہلاک ہوئے

شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے ہفتے کے روز حلب کے اُن علاقوں پر آتشیں مواد بھرے ’بیرل بم‘ گرائے جو داعش کے زیر قبضہ ہیں، جس کے نتیجے میں 71 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تعداد شہریوں کی ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزویٹری فور ہیومن رائٹس‘، جو اپنے سرگرم کارکنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے شام کی سرزمین پر تشدد کے واقعات کی دستاویز تیار کرتی ہے، اُس کا کہنا ہے کہ 59 ہلاک شدگان میں زیادہ تر مرد تھے؛ اور یہ ہلاکتیں اُس وقت پیش آئیں جب سوق الحال کے قصبے کی ایک مصروف مارکیٹ اور حلب کے مضافانی علاقے الباب پر فضائی حملے کیے گئے۔

حلب ہی میں باغیوں کے زیر قبضہ شعار کے مضافات میں ہونے والے ایک دھماکے میں مزید 12 افراد ہلاک ہوئے، جِن میں زیادہ تر کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں، داعش نے الباب پر کیے گئے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے، اِسے شامی فوج کی جانب سے ’تباہ کُن قتل عام‘ قرار دیا ہے۔
دریں اثنا، دولت اسلامیہ نے ہسکا کےکُرد آبادی والے اکثریتی شہر میں دو خودکش بم حملے کیے ہیں، جِن کا نشانہ شامی فوجیں تھیں۔

امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے کہا ہے کہ جمعے اور ہفتے کو اُنھوں نے دولت اسلامیہ کے اہداف پر فضائی حملے جاری رکھے، جن میں سے 16 عراق میں جب کہ چھ کارروائیاں شام میں کی گئیں۔

فوجی کمان کا کہنا ہے کہ داعش کی کمان کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے بم حملے، جنگی طیاروں اور ڈرون کی کارروائیاں کی گئیں، جن کا مقصد باغیوں کے اسلحے کے ذخیرے تباہ کرنا تھا۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ دِنوں کے دوران، اُس کے دو اہل کاروں نے شام کی حزب مخالف اور سولین رہنماؤں سے ملاقات کی ہے جس میں شام میں داعش کے باغیوں سے لڑنے میں مدد دینے کے لیے افواج کو تربیت دینے اور حربی آلات فراہم کرنے کےمعاملے پر گفتگو ہوئی۔

گذشہ چار برس سے زائد عرصے کے دوران، جب سے شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بے چینی کا آغاز ہوا ہے، اب تک ملک میں220000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG