رسائی کے لنکس

عراق: طارق عزیز کو کرد مقدمے میں 10 سال قید


عراق: طارق عزیز کو کرد مقدمے میں 10 سال قید

عراق: طارق عزیز کو کرد مقدمے میں 10 سال قید

ایک عراقی عدالت سابق وزیر خارجہ طارق عزیز کو ایران عراق جنگ کے دوران شیعوں اور کردوں کے خلاف جرائم کا قصور وار ٹہراتے ہوئے 10سال قید کی سزاسنائی ہے۔

عدالتی عہدے داروں نے کہا کہ پیر کے اس فیصلے میں عزیز کو سزئے موت اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ قتل کی سازش میں شریک اپنے دوسرے ساتھیوں کی نسبت ان کا عمل دخل کم تھا۔

صدام دور سے تعلق رکھنے والے کم ازکم دو اور افراد کو پیر کے روز اسی مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی ، جب کہ چار دوسرے افراد کے خلاف الزامات ختم کردیے گئے۔

پچھلے ماہ عراق کی اعلیٰ ترین فوجداری عدالت نے عزیز کوعراق میں شیعہ سیاسی پارٹیوں کے خلاف کارروائی میں ان کے کردار پر پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ لیکن عراقی صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ وہ ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کے حکم کی توثیق نہیں کریں گے۔

طارق عزیز پر یہ الزام لگایاگیاتھا کہ انہوں نے موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی کی اسلام دیوا پارٹی کے لیڈروں کے قتل، قید اور جلاوطن کرنے میں مدد دی تھی۔

74 سالہ طارق عزیز پہلے ہی 1992 ء میں 42تاجروں کےقتل پر 15 سال قید کی کاٹ رہے ہیں۔ انہیں ایک اور مقدمے میں شمالی عراق میں کردوں کی زبردستی بے دخلی پر سات سال کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

عزیز کہہ چکے ہیں کہ ان کا سوائے اس کے اور کوئی قصور نہیں ہے کہ وہ صدام حسین کے وفادار تھے اور انہوں نے ذاتی طورپر کوئی جرم نہیں کیا۔ انہوں نے 2003ء میں خود کو امریکی فوج کے حوالے کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG