رسائی کے لنکس

عراق: شدید مزاحمت پر تکریت سے فوج پسپا


"داعش" کے عسکریت پسند(فائل فوٹو)

"داعش" کے عسکریت پسند(فائل فوٹو)

تکریت پر تنظیم دولت اسلامیہ فی عراق ولشام "داعش" کے عسکریت پسندوں نے گزشتہ ماہ قبضہ کیا تھا اور اڑھائی ہفتے پہلے ہی قبضہ چھڑوانے کی کوششیں شروع کی گئیں۔

سنی عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ عراقی شہر تکریت سے حکومت کی فوجیں اور شیعہ اتحادی رضا کار بدھ کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنے پر واپس لوٹ گئے۔

ذرائع کے مطابق علیحدگی پسند جنگجوؤں کی طرف سے مارٹر گولوں کی شدید بمباری اور ماہر نشانہ بازوں کی فائرنگ نے منگل کو غروب آفتاب سے پہلے فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔

تکریت پر تنظیم دولت اسلامیہ فی عراق ولشام "داعش" کے عسکریت پسندوں نے گزشتہ ماہ قبضہ کیا تھا اور اڑھائی ہفتے پہلے ہی قبضہ چھڑوانے کی کوششیں شروع کی گئیں۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق بدھ کو کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔

تکریت دارالحکومت بغداد سے ایک سو میل شمال میں واقع ہے اور سابق آمر صدام حسین کے حامیوں اور شدت پسند گروہ کا حصہ بننے والے فوجی عہدیداروں کا گڑھ جانا جاتا ہے۔

فوج نے شدت پسندوں پر قریبی اوجا گاؤں سے حملے کیے اور منگل کو ابتدائی لڑائی شہر کے جنوبی حصے میں ہوئی۔ فوج نے 3 جولائی کو اس گاؤں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا تھا اور تب ہی سے وہ شمال کی طرف پیش قدمی کی کوشش کرتی رہی ہے۔

داعش نے انٹرنیٹ پر منگل کو ہونے والی لڑائی کی تصاویر جاری کیں جس میں ہلاک ہونے والے اپنے جنگجوؤں کو "شہید" کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں ٹینک اور ٹرک جن سیاہ و سفید رنگوں والے اپنی تنظیم کے پرچم آویزاں ہیں وہ تصاویر بھی انٹرنیٹ پر جاری کیں۔

XS
SM
MD
LG