رسائی کے لنکس

تکریت قتلِ عام، عدالت نے مجرمان کو پھانسی کی سزا سنا دی


فائل

فائل

بغداد میں قانونِ فوجداری کی وسطی عدالت نے منگل کو اِن مجرمان کو سزا سنائی، جو سارے عراقی شہری ہیں۔ اُنھیں پھانسی دی جائے گی، جب کہ عدم ثبوت کی بنا پر، دیگر سات ملزمان کو برَی کر دیا گیا

ایک عراقی عدالت نے اُن 40 افراد کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنایا ہے جنھوں نے سنہ 2014 میں ملک کے شمالی شہر، تکریت میں پکڑے گئے سینکڑوں فوجیوں کو ہلاک کرنے کے گھناؤنے عمل میں حصہ لیا تھا۔

بغداد میں قانونِ فوجداری کی وسطی عدالت نے منگل کو اِن مجرمان کو سزا سنائی، جو سارے عراقی شہری ہیں۔ اُنھیں پھانسی دی جائے گی، جب کہ عدم ثبوت کی بنا پر، دیگر سات ملزمان کو برَی کر دیا گیا۔

بھرتی کیے گئے سینکڑوں فوجی، جن میں سے زیادہ تر کا شیعہ مسلک سے تعلق تھا، اُنھیں داعش کے شدت پسند گروپ نے پھانسی دینے کے انداز میں گولی چلا کر ہلاک کیاتھا، جب دولت اسلامیہ نے اِس صوبائی دارالحکومت پر قبضہ جمایا، اور کیمپ اسپیشر کے ہوائی اڈے کا محاصرہ کیا، جو اس سے پہلے امریکی فوج کے زیر استعمال تھا۔ شدت پسندوں نے اندازاً 1700 فوجیوں کو پکڑ لیا تھا، جو بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

دولتِ اسلامیہ نے وڈیو جاری کی ہے جس میں فوجیوں کو گولیاں مارتے دکھایا گیا ہے، جب کہ اُنھیں ایک گہری کھائی میں الٹنے منہ لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔

عدالتی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اِس قتل عام میں مبینہ طور پر 600 سے زائد شدت پسندوں نے حصہ لیا۔ جولائی، 2014ء کو 24 افراد کو سزائے موت سنا کر ہلاک کیا گیا۔ اپیلوں پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔

حقوقِ انسانی کے گروہوں نے مقدمے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں بین الاقوامی معیار کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے جمعرات کو ایک بیان میں مقدمے کو ’’بنیادی طور پر نقائص سے پُر‘‘ قرار دیا، جس سے، بقول اُن کے،’’انصاف کی فراہمی اور انسانی زندگی کی صریح بے حرمتی ثابت ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG