رسائی کے لنکس

عراقی عوام جنگجووں کا مقابلہ کریں، شیعہ رہنما


آیت اللہ سیستانی عراق کے شیعہ مسلمانوں کے اعلیٰ ترین رہنما تصور کیے جاتے ہیں

آیت اللہ سیستانی عراق کے شیعہ مسلمانوں کے اعلیٰ ترین رہنما تصور کیے جاتے ہیں

آیت اللہ سیستانی کی جانب سے اس نوعیت کے بیان کے بعد اندیشہ ہے کہ عراق میں جاری شیعہ-سنی کشیدگی اور تشدد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

عراق کے سب سے اہم اور مرکزی شیعہ عالمِ دین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دارالحکومت بغداد کی جانب بڑھنے والے سنی جنگجووں سے مقابلے کے لیے ہتھیار اٹھالیں۔

عراق کے مقدس شہر کربلا میں نمازِ جمعہ کے موقع پر پڑھ کر سنائے جانے والے پیغام میں آیت اللہ علی سیستانی نے عراقی عوام سے کہا ہے کہ انہیں 'الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام (آئی ایس آئی ایل)' کے جنگجووں سے مقابلے کے لیے متحد ہوجانا چاہیے۔

آیت اللہ سیستانی عراق کے شیعہ مسلمانوں کے اعلیٰ ترین رہنما تصور کیے جاتے ہیں اور ان کی جانب سے اس نوعیت کے بیان کے بعد اندیشہ ہے کہ ملک میں جاری شیعہ-سنی کشیدگی اور تشدد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

جمعے کو کربلا میں شیعہ عقیدت مندوں کے ایک بڑے اجتماع میں آیت اللہ سیستانی کے ترجمان شیخ عبدالمہدی الکربلائی نے ان کا پیغام پڑھ کر سنایا۔

پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو ہتھیار اٹھانے اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے دہشت گردوں سے لڑنے کے قابل ہیں انہیں رضاکارانہ طور پر سکیورٹی فورسز میں شامل ہو کر اس مقدس مقصد کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔

اپنے پیغام میں آیت اللہ سیستانی نے کہا ہے کہ 'آئی ایس آئی ایل' کے جنگجووں کے ساتھ لڑائی میں مارے جانے والے افراد "شہادت" کے درجے پر فائض ہوں گے۔

سنی شدت پسندوں نے جمعے کو عراق کے مشرقی صوبے دیالہ کے مزید دو قصبوں سعدیہ اور جلولا پر قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد عسکریت پسندوں کی دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔

عراقی وزیراعظم نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا لیکن ’کورم‘ پورا نہ ہونے کے سبب اجلاس منعقد نہیں ہوسکا۔ کرد اور سنی قانون سازوں نے پارلیمان کے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی تنظیم ’آئی او ایم‘ کے مطابق جنگجووں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے پانچ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔

عراق کو 2008ء کے بعد بدترین تشدد کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اس سال 4500 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 900 ہلاکتیں صرف گزشتہ مہینے ہوئی ہیں۔
XS
SM
MD
LG