رسائی کے لنکس

تشدد کی تازہ لہر پر عراقیوں کی تشویش

  • ایڈورڈ یرانین

رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آغاز سے چند روز پہلے عراق میں ہفتے اور اتوار کے روز ہونے والے بم دھماکوں میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تشدد کی اس تازہ لہر نے بہت سے لوگوں کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ لیکن عراق میں امریکی فورسز کے کمانڈر کو بھروسہ ہے کہ یہ ملک اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اتور کے روز رمادی میں ایک خودکش کار بمبار نے پولیس کی ایک گشتی پارٹی کو نشانہ بنایا ، جس سے نصف درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ نشانہ بننے والوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے اکثر ریٹائرڈ افراد تھے اور وہ ایک مقامی پوسٹ آفس میں اپنی پنشن کے چیک لینے کے لیے قظار میں کھڑے انتظار کررہے تھے۔

رمادی سے تعلق رکھنے والے درمیانی عمر کے ایک شخص نے شکایت کی کہ حکومتی عہدے دار نااہل ہیں اور وہ اس قصبے کے رہائشوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے ۔

اس شخص کا کہنا تھا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز میں شامل بہت سے عہدے داروں نے کبھی اسکول کی سطح تک کی تعلیم بھی حاصل نہیں کی اور حتیٰ کہ وہ نہ تو لکھ سکتے ہیں او رنہ ہی پڑھ سکتے ہیں۔ اس نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اہل اور بہتر تعلیمی قابلیت رکھنے والے افسر بھرتی کریں، جنہیں یہ معلوم ہو کہ سیکیورٹی کس طرح برقرار کھنی ہے ، نہ یہ کہ وہ اپنا وقت محض موبائل فون پر گفتگو کرتے ہوئے گذاریں۔

شیعہ اکثریتی شہر بصرہ میں برہم رہائشیوں نے بھی ، ہفتے کے روز شہر کے مرکز میں واقع ایک مارکیٹ میں بم دھماکوں کے بعد، جس میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، یہ شکایت کی کہ حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی ۔

بصرہ کی صوبائی سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ علی المالکی نے اس واقعہ کے بارے میں بتایا کہ دو کار بمباروں کی جانب سے سڑک کنارے بم دھماکوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور بھاری جانی نقصان ہوا۔ انہوں نے امریکی فورسز سے اپیل کی کہ انٹیلی جنس کے ذریعے ان کے لوگوں کی مدد کریں تاکہ اس طرح کے حملوں سے بچا جاسکے۔

المالکی کا کہنا تھا کہ اب صرف امریکی فوجیوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ تریبت اور عراقی انٹیلی جنس کو آلات کی فراہمی کے ساتھ ہماری مدد کریں ، تاکہ ہمیں تشدد کے واقعات کے رونما ہونے پر قبل انہیں روکنے میں مدد مل سکے۔

پروگرام کے مطابق امریکی لڑاکا افواج کا انخلاء اس مہینے کے آخر تک ہونا ہے۔ جس کے بعد اس ملک میں عراقی فورسز کی تربیت میں مدد کے لیے لگ بھگ 50 ہزار افراد پر مشتمل فوج کے چھ ڈویژن باقی رہ جائیں گے۔

ہفتے کے روز امریکی فورسز نے امریکی کمانڈر جنرل رے اوڈیرنو اور عراق کے وزیر دفاع عبدل العبیدی کی موجودگی میں عراق میں اپنا آخری مرکز اپنے عراقی ہم منصبوں کے حوالے کیا۔ جنرل اوڈیرنو نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آج ہم نے سیکیورٹی کی ذمہ داریاں مکمل طورپر عراقی سیکیورٹی فورسز کے سپرد کرنے میں پیش رفت کی ہے۔

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے پانچ مہینے گذر جانے کے بعد ابھی تک نئی حکومت قائم نہیں ہوسکی ہے اور ملک میں جاری تشدد کی لہر نے کئی عہدے داروں کے ان خدشات میں اضافہ کردیا ہے کہ شورش پسند سیاسی خلا کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔


XS
SM
MD
LG