رسائی کے لنکس

عراق کے مختلف حصوں میں اپنی مذہی تقریبات میں شرکت کے لیے آنے والے شیعہ زائرین کوہدف بنا کر کیے گئے حملوں میں کم ازکم 70 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بدھ کے ان حملوں میں، جو عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد سب سے زیادہ خون ریز دنوں میں سے ایک ہے، تقریباً 260 افراد زخمی بھی ہوئے۔

سب سے زیادہ بم دھماکے بغداد اور ملک کے جنوبی حصے میں واقع شہروں حلہ، کربلا اور حسوا میں ہوئے جو شیعہ اکثریتی علاقے ہیں اور اس سے قبل بھی وہاں پر سنی انتہا پسند حملے کرتے رہے ہیں۔

شعیہ زائرین حضرت امام موسیٰ الکاظم کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے آرہے تھے۔

شمال میں واقع عراقی کرد علاقے بھی بم حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق بغداد میں چار بم دھماکوں سے شیعہ زائرین کو نشانہ بنایا گیا جو مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے جمع تھے۔ دو درجن سے زائد افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمیوں میں اکثر کی حالت تشویشناک ہے۔

ادھر حلہ میں دو کار بم دھماکوں میں 22 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکے پولیس کے زیر استعمال ریستورانوں کے باہر کیے گئے۔

عراق میں تشدد کے واقعات میں حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اتوار کو شیعہ زائرین پر مارٹر حملوں میں چھ افراد مارے گئے جب کہ رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 26 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG