رسائی کے لنکس

یہ تازہ ترین واقعات تشدد کی اُن مہلک کارروائیوں کا حصہ ہیں جِن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اِن میں القاعدہ سے وابستہ سنی باغی ملوث ہیں، جِن کا مقصد فرقہ وارانہ اور نسلی تناؤ بھڑکانہ ہے

منگل کے روز عراقی دارالحکومت کےطول و ارض میں مہلک کار بم حملے ہوئے جن میں ریستوران، مارکیٹ اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا، جِس کے نتیجے میں کم از کم 50افراد ہلاک ہوئے۔

پولیس کے مطابق، شام کے وقت دو گھنٹوں کے اندر اندر بغداد کے شیعہ اکثریت والے مضافات میں 11مختلف بم حملے ہوئے۔ مہلک ترین حملہ بغداد کے تلبیحہ مضافات میں ہوا، جہاں حکام کے مطابق، مصروف گلی میں ایک یا زیادہ گاڑیوں میں رکھے گئے بم پھٹنے سےکم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔

یہ تازہ ترین واقعات تشدد کی اُن مہلک کارروائیوں کا حصہ ہیں جِن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اِن میں القاعدہ سے وابستہ سنی باغی ملوث ہیں، جِن کا مقصد فرقہ وارانہ اور نسلی تناؤ بھڑکانہ ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اپریل سے اب تک بغداد اور دیگر عراقی شہروں میں 4000سے زائد افراد اُس وقت ہلاک ہوئے جب ملک کی شیعہ قیادت والی حکومت کی طرف سے دارالحکومت کے شمال میں قائم سنی احتجاجی کیمپ کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔

جولائی میں عراق میں اقوام متحدہ کے قائم مقام ایلچی، گریگری بوزین نے ملک کے بارے میں بتایا کہ یہاں تشدد کی کارروائیوں کے نتیجے میں خون خرانہ جاری ہے۔

اُنھوں نے متنبہ کیا کہ اِن ہلاکتوں کے نتیجے میں ملک ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں آجائے گا۔
XS
SM
MD
LG