رسائی کے لنکس

امریکی محکمہٴ خارجہ نے اِن حملوں کو ’دہشت گردی کی وحشیانہ حرکات‘ قرار دیا ہے؛ اور کہا ہے کہ ’اِن حملوں سے ایک بار پھر داعش کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کی زندگی کو بے توقیر کیے جانے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے‘

عراقی وزیر اعظم نے منگل کے روز اس بات کا عہد کیا کہ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کو تیز کیا جائے گا۔ اُنھوں نے منگل کو بغداد کے اُس کاروباری علاقے کا دورہ کیا جہاں خودکش بم حملہ ہوا تھا، جہاں اب بھی ملبہ بکھرا ہوا ہے۔

حیدر العبادی نے پیر کے روز ہونے والے اس حملے کی تفصیل بتائی جس میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اُنھوں نے اِسے داعش کے لڑاکوں کا ’مایوس کُن حربہ‘ قرار دیا، جنھیں گذشتہ سال کے اواخر میں عراقی افواج نے رمادی کے مغربی شہر سے پسپا کیا تھا۔
بغداد کے شمال میں پیر ہی کے روز ایک اور حملہ ہوا، جسے داعش کے سنی لڑاکوں سے منسوب کیا جارہا ہے، جس میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے۔

ایسے میں جب شیعہ آبادی کے خلاف تشدد کے تازہ واقعات سامنے آچکے ہیں، منگل کو بظاہر بدلہ لینے کے انداز میں حملے ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آج مشرقی عراق میں سات سنی مساجد اور درجنوں دوکانوں پر بم حملے ہوئے۔ سنہ 2011 میں، جب ملک سے امریکی فوجوں کا انخلا ہوا، یہ حکومت بغداد کو درپیش مہلک ترین تشدد کا معاملہ ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے اِن حملوں کو ’دہشت گردی کی وحشیانہ حرکات‘ قرار دیا ہے، اور ایک ترجمان نے امریکہ کے اس عزم کا اعادہ کیا جو حمایت وہ عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے کر رہا ہے۔

ترجمان، جان کِربی نے کہا ہے کہ ’اِن حملوں سے ایک بار پھر داعش کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کی زندگی کو بے توقیر کیے جانے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ، ’ہم عراقی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ایسے میں جب اُنھیں پُرتشدد انتہاپسندی کے عفریت سے واسطہ ہے‘۔

XS
SM
MD
LG