رسائی کے لنکس

پیر کے حملوں کے ذ مہ دار القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند تھے : عراقی عہدے دار


پیر کے حملوں کے ذ مہ دار القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند تھے : عراقی عہدے دار

پیر کے حملوں کے ذ مہ دار القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند تھے : عراقی عہدے دار

عراقی عہدے داروں نے القاعدہ سے منسلک عسکریت پسندوں پر عراق بھر میں پیر کے ان سلسلے وار حملوں کا الزام عائد کیا ہے جن میں کم از کم 110 لوگ ہلاک ہوئے تھے ۔ یہ ملک میں اس سال تشدد کا بدترین دن تھا ۔

عراق کے نو شہروں اور قصبوں میں بم دھماکوں اور فائرنگ کے ان واقعات کی کسی نے باضابطہ زمہ داری قبول نہیں کی ہے جن میں سینکڑوں لوگ زخمی بھی ہوئے تھے ۔

عراق کے نائب وزیر داخلہ حسین علی کمال نے منگل کے روز اعتراف کیا کہ ان ہلاکتوں میں عراقی سیکیورٹی فورسز کی کوتاہیوں کا عمل دخل ہو سکتا ہے ۔

پیر کے حملوں میں سے سب سے مہلک حملہ جنوبی بغداد کے علاقے ہلہ میں ہوا ۔ہسپتال کے عہدے داروں کا کہان ہے کہ ایک ٹیکسٹائل فیکٹری کے باہر ہونے والے دھماکوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے ۔ جنوبی شہر بصرہ میں ایک اور مقام پر تین بم دھماکوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے ۔

مشرقی بغداد میںکارروائیوں کے ایک نگران امریکی فوجی عہدے دار ، بریگیڈیئر جنرل رالف بیکر نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حملوں کی پیچیدگی سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ مربوط تھے۔

پیر کےر وز بغداد میں مسلح افراد نے پڑتالی چوکیوں پر حملوں میں سات عراقی فوجی اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ۔ دار الحکومت کے جنو ب میں قصبے سوائرہ میں دو بم دھماکوںمیں تیر افراد ہلاک ہوئے ۔

XS
SM
MD
LG