رسائی کے لنکس

عراق: ایک اعلیٰ عدالت کا نوری المالکی کے حق میں فیصلہ


مبصرین کا کہنا ہے کہ نور المالکی عراق کی سنی اور کرد آبادی کے علاوہ شیعہ برادری کے بہت سے لوگوں کے لیے بھی بطور وزیر اعظم قابل قبول نہیں ہیں۔

عراق کی ایک اعلیٰ عدالت نے وزیراعظم نوری المالکی کے سیاسی اتحاد کو پارلیمان کا سب سے بڑا اتحاد قرار دیا ہے۔

عدالت کی طرف سے پیر کو سنائے جانے والے فیصلے سے 2006ء سے ملک میں برسر اقتدار نوری المالکی کی ایک بار پھر ملک کا وزیراعظم بننے کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔

اس فیصلے سے چند گھنٹے قبل ہی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا تھا کہ صدر فواد معصوم نے پارلیمان کے سب سے بڑے اتحاد کی طرف سے وزیر اعظم کی نامزدگی نا کرنے پر آئین کی خلاف ورزی کی۔

صدر کو گزشتہ اتوار کو اکثریتی اتحاد میں سے وزیر اعظم نامزد کرنا تھا۔ یہ واضح نہیں کہ صدر معصوم کب نیا وزیراعظم نامزد کریں گے۔

عدالتی فیصلے سے قبل اقوام متحدہ اور امریکہ نے ایک ایسے وزیر اعظم کی نامزدگی کی حمایت کی جو سب کی شمولیت سے حکومت بنائے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ سب کی شمولیت سے حکومت کی تشکیل عراق کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے اور اُنھوں نے مالکی پر زور دیا کہ کہ وہ صورت حال کو مزید خراب نہ کریں۔

عراق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے پیر کو کہا ہے کہ صدر آئین کے مطابق کام کر رہے ہیں اور انھوں نے عراقی فورسز سے کہا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی عمل سے اجتناب کریں جو سیاسی عمل میں خلل کا باعث بنے۔

اس سے قبل عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حیدر العابدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر کے ذریعے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ شیعہ جماعتیں نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے قریب ہیں۔

وزیراعظم نوری المالکی

وزیراعظم نوری المالکی

موجودہ وزیراعظم نوری المالکی پر دباؤ ہے کہ وہ تیسری مرتبہ اس عہدے کی دوڑ سے الگ ہو جائیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ حیدر العابدی ملک کے ممکنہ نئے وزیر اعظم ہو سکتے ہیں۔

اُدھر عراق کے وزیراعظم نوری المالکی کی حامی فورسز نے اطلاعات کے مطابق دارالحکومت بغداد کے اہم مقامات کو گھیرے میں لے لیا جن میں صدر فواد معصوم کا گھر بھی شامل ہے۔

پیر کی صبح سامنے آنے والی غیر واضح تفصیلات کے مطابق عراق کے حساس علاقے 'گرین زون' جہاں اہم ادارے اور حکام کی رہائشگاہیں واقع ہیں، وہاں مسٹر مالکی کی فورسز نے چوکیاں قائم کر لی ہیں۔

نوری المالکی تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں، لیکن اُن پر دباؤ ہے کہ وہ وزارت عظمٰی کی دوڑ سے الگ ہو جائیں۔

وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا کہ وہ صدر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے کیوں کہ بقول اُن کے صدر نے '' آئین کی کھلی خلاف ورزی کی''۔

مالکی اتحاد نے اپریل میں ہونے والے انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی اور اُن کے بقول صدر فواد معصوم سب سے بڑے پارلیمانی اتحاد کی طرف سے نئے وزیر اعظم کی نامزدگی کا اعلان کرنے میں ناکام رہے۔

صدر کو اتوار کے روز تک نئے وزیر اعظم کی نامزدگی کا اعلان کرنا تھا، لیکن نوری المالکی نے کرد آبادی سے تعلق رکھنے والے صدر پر الزام لگایا کہ اُنھوں نے سیاسی مقاصد کی وجہ سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور واشنگٹن صدر فواد معصوم کی مکمل حمایت کرتا ہے جنہیں پارلیمنٹ نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں ملک کا صدر منتخب کیا تھا۔

وزارت خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے کہا کہ امریکی عہدیدار عراقی قائدین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ واشنگٹن عراق میں سب کی شمولیت سے حکومت کی تشکیل کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

امریکی عہدیدار اور بہت سے مغربی مبصرین کا کہنا ہے کہ نوری المالکی جو 2006ء سے عراق کے وزیراعظم ہیں، منقسم عراق کی یکجہتی میں ناکام رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نور المالکی عراق کی سنی اور کرد آبادی کے علاوہ شیعہ برادری کے بہت سے لوگوں کے لیے بھی بطور وزیر اعظم قابل قبول نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ دولت اسلامیہ فی عراق ولشام کے جنگجوؤں نے ملک کے شمال میں بیشتر حصوں پر قبضہ کر کے 'خلافت' کا اعلان کر رکھا ہے۔

گزشتہ ہفتے سے امریکہ نے جنگجوؤں کے اہداف پر فضائی حملے کیے۔

اتوار کو امریکہ نے جنگی طیاروں کی مدد سے اربیل کے قریب کرد فورسز پر حملے کے لیے استعمال کی جانے والی بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

صدر براک اوباما نے گزشتہ ہفتے پہلی بار عراق میں شدت پسندوں کے اہداف پر فضائی حملوں کی اجازت دی تھی۔

XS
SM
MD
LG