رسائی کے لنکس

انتخابات کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں تشدد کے واقعات میں کم ازکم 12 افراد ہلاک ہوئے۔

عراق میں جمعرات کو انتخابی عملے نے ایک روز قبل ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا۔

2011ء میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد ہونے والے یہ پہلے انتخابات ہیں۔

ان انتخابات میں دو کروڑ لوگ عراقی پارلیمان کے 328 ارکان کو منتخب کرنے کے اہل تھے۔

امن و امان کو قابو میں رکھنے کے لیے انتخابات کے موقع پر پولیس کے بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جب کہ بغداد میں گاڑیاں چلانے پر بھی پابندی عائد کی گئی لیکن اس کے باوجود مختلف پرتشدد واقعات میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے۔

سکیورٹی حکام کی اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں سڑک میں نصب بموں اور خود کش حملوں سے ووٹروں اور پولنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تشدد کے واقعات کے باوجود کئی عراقی ووٹ ڈالنے کے لیے اس لیے پر عزم تھے کیونکہ وہ اُمید کر رہے ہیں کہ ایک نئی حکومت مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک تبدیلی لے کر آئے گی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے انتخابات کو سراہتے ہوئے عراقی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے ایسی حکومت تشکیل دیں جو عراقی عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔

کئی دوسرے لوگ وزیراعظم نورالمالکی کی حمایت کر رہے ہیں جو تیسری بار وزیر اعظم بننے کے لیے کوشاں ہیں۔

بغداد اور بصرہ میں ووٹ ڈالنے کی شرح سب سے زیادہ بتائی گئی ہے لیکن یہ شرح سنی علاقوں میں نسبتاً کم تھی۔

مالکی جو اپنی کامیابی کے لیے پر اعتماد ہیں، نے عراقیوں پر زور دیا تھا کہ وہ بھاری تعداد میں آکر ووٹ ڈالیں۔

مبصرین کے مطابق مالکی کا شیعہ اسٹیٹ آف لا الائنس متوقع طور پر زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا لیکن اسے قطعی اکثریت حاصل نہیں ہو سکے گی۔

سنی باغیوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ مالکی مخالف دھڑوں نے ان پر اقتدار پر اجارہ داری قائم کرنے اور ملک کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG