رسائی کے لنکس

عراقی امیدواراپیلیں کر رہے ہیں، کچھ اپنے فرقے سے کچھ سب مذاہب سے


عراقی انتخابات

عراقی انتخابات

ایک جماعت کا ایجنڈا: بدعنوانی کی مخالفت

عراق میں 325 نشتوں کے لئے چھ ہزار سے زائد امیدواروں نے اتوار کے انتخابات میں حصہ لیا۔

نوری المالکی سمیت تین بڑے شیعہ اتحاد ہیں۔ مالکی کو عراقیہ نامی اتحاد سے کافی مشکل کا سامنا ہے جس کے سربراہ آزاد خیال شیعہ لیڈر، سابق وزیر اعظم ایاد علاوی ہیں۔

مسٹر علاوی نے سنی عربوں، شیعوں، مسیحیوں، ترکمانوں اور کردوں سے اتحاد کی اپیل کی ہے۔

ادھر نیشنل الائینس یعنی قومی اتحاد نامی تنظیم فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہمدردیاں حاصل کرنے میں کوشاں ہے۔ اس اتحاد میں امریکہ مخالف عالم مقتدیٰ الصدر بھی شامل ہیں، جن کے ایران کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔

ان کے علاوہ کچھ چھوٹے چھوٹے گروپ بھی ہیں جیسے ائتلاف وحدة العراق جس کے قائد وزیر داخلہ جواد بولانی ہیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ اچھے خاصے ووٹ حاصل کرلیں گے اور یوں مستقبل کی کسی بھی اتحادی حکومت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسی طرح کرد پارٹیاں کسی بھی اتحاد کا اہم حصہ ہوں گی۔ مثلاً ایک گروپ نے، جس کا نام گوران یعنی تبدیلی ہے، بدعنوانیوں کے خلاف آواز اٹھا کر کافی توجہ حاصل کی ہے

XS
SM
MD
LG