رسائی کے لنکس

سست روی کے باوجود عراقی فورسز کی موصل میں پیش قدمی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

عراقی وزیراعظم نے موصل کے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ "ہم اپ کو آزاد کروائیں گے۔ ہماری فورسز پسپا نہیں ہوں گی۔"

عراق کی اسپیشل فورسز موصل کے قرب و جوار میں داعش سے واگزار کروائے گئے علاقوں کو پوری طرح سے پاک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن اس میں انھیں مشکل کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

فوج کے ایک ترجمان لیفٹیننٹ کرنل محند التمیمی نے اتوار کو بتایا کہ داعش کی طرف سے ان علاقوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں اور دیگر دفاع انتظامات کے علاوہ یہاں شہریوں کی موجودگی کے باعث فورسز کی کارروائی سست روی کا شکار ہے۔

ان کے بقول شہریوں کی موجودگی کی وجہ سے وہ امریکی زیر قیادت اتحاد سے یہاں فضائی کارروائی کی درخواست بھی نہیں کر پا رہے۔

یہ اسپیشل فورسز عراق کی بہترین فورس تصور کی جاتی ہے لیکن اسے بھی پیش قدمی کے لیے فضائی مدد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

عراقی فورسز منگل کو موصل کے مشرقی کنارے میں داخل ہوئیں اور جمعہ کو انھوں نے باقاعدہ طور پر شہر میں پیش قدمی شروع کی لیکن تاحال یہ کارروائی موصل میں صرف ایک کلومیٹر تک ہی کی جا سکی ہے۔

ہفتہ کو عراقی فورسز نے موصل کے مشرقی حصے میں پیش قدمی کرتے ہوئے داعش کے خلاف بھاری گولہ باری کی اور سرکاری میڈیا کے مطابق فورسز شہر کے مشرق میں پانچ مختلف علاقوں میں داخل ہو چکی ہیں اور لڑائی اب بھی جاری ہے۔

شہر کے مغربی جانب دریائے دجلہ جو موصل کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، داعش نے ایک سابقہ فوجی اڈے کے قریب خود کو منظم کیا ہوا ہے اور یہاں پر بھی عراقی فورسز کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے ہفتہ کو برطلہ کے قریب فوج کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔

اس موقع پر انھوں نے موصل کے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ "ہم اپ کو آزاد کروائیں گے۔ ہماری فورسز پسپا نہیں ہوں گی۔"

بعد ازاں وہ اربیل گئے اور وہاں کرد خطے کے صدر مسعود بارزانی سمیت اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ عراقی فورسز موصل میں تمام اطراف سے پیش قدمی کر رہی ہیں اور منصوبے کے مطابق اس آپریشن میں تاخیر نہیں ہو گی۔

XS
SM
MD
LG