رسائی کے لنکس

عراق: وزیرِ دفاع و داخلہ کے نام پارلیمان سے منظور


عراق کے نئے وزیرِ دفاع خالد العبیدی

عراق کے نئے وزیرِ دفاع خالد العبیدی

امکان ہے کہ سکیورٹی سے متعلق ملک کے اہم ترین عہدوں پر تقرریوں کے بعد عراقی حکومت دولتِ اسلامیہ کی صورت میں درپیش خطرے سے بہتر طور پر نبٹ سکے گی۔

عراقی پارلیمان نے وزیرِاعظم حیدر العبادی کی جانب سے وزارتِ داخلہ اور دفاع کے لیے نامزد وزرا کے ناموں کی منظوری دیدی ہے۔

عراق کے ارکانِ پارلیمان نے ہفتے کو ہونے والے اجلاس میں شمالی شہر موصل سے تعلق رکھنے والے سنی رکنِ پارلیمان خالد العبیدی کی بطور وزیرِ دفاع اور شیعہ جماعتوں کے اتحاد سے تعلق رکھنے والے شیعہ رکنِ پارلیمان محمد الغبان کی وزیرِ دفاع کی حیثیت سے تعیناتی کی منظوری دی۔

عراقی پارلیمان نےگزشتہ ماہ نو منتخب وزیرِاعظم العبادی کی جانب سے پیش کی جانے والی کابینہ کے تقرر کی منظوری دیدی تھی لیکن حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے مابین ان دونوں طاقت ور وزارتوں کے حصول پر اندرونی رسہ کشی اور کشیدگی کے باعث ان عہدوں پر تقرر نہیں کیا گیا تھا۔

امکان ہے کہ نئے وزرا کی پارلیمان سے منظوری کے بعد اس سیاسی کشیدگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور سکیورٹی سے متعلق ملک کے اہم ترین عہدوں پر تقرریوں کے بعد عراقی حکومت دولتِ اسلامیہ کی صورت میں درپیش خطرے سے بہتر طور پر نبٹ سکے گی۔

امریکہ اور مغربی ملک وزیرِاعظم العبادی اور عراق کی دیگر مرکزی سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ ایک ایسی حکومت تشکیل دیں جن میں عراق کے تمام مذہبی اور لسانی آبادیوں - خصوصاً سنیوں کی نمائندگی موجود ہو تاکہ سنیوں میں بڑھتے ہوئے احساسِ محرومی اور شدت پسندی کے رجحانات کو کنٹرول کیا جاسکے۔

ناقدین حیدر العبادی کے پیش رو اور عراق کی شیعہ جماعتوں کے مضبوط اتحاد سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے آٹھ سالہ دورِ اقتدار میں عراق کی سنی اقلیت کو حکومتی معاملات سے علیحدہ رکھ کر ملک میں شدت پسندی کو ہوا دی جس کے نتیجے میں دولتِ اسلامیہ کو عراق کےسنی اکثریتی علاقوں میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملا۔

XS
SM
MD
LG