رسائی کے لنکس

عراق: خود کش حملے کے بعد وزیرِداخلہ مستعفی


فائل

فائل

عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ داخلہ نے وزارت کا قلم دان اپنے نائب کو سونپ کر اپنا استعفیٰ وزیرِاعظم حیدر العبادی کو بھجوادیا ہے

بغداد میں اتوار کو ہونے والے ہلاکت خیز خود کش حملے کے بعد عراق کے وزیرِ داخلہ محمد سالم الغبان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

سالم الغبان پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اتوار کے حملے کے بعد سے ناکافی حفاظتی انتظامات اور سکیورٹی کی ابتر صورتِ حال کی ذمہ داری قبول کرکے مستعفی ہونے کے لیےشدید دباؤ تھا۔

عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ داخلہ نے وزارت کا قلم دان اپنے نائب کو سونپ کر اپنا استعفیٰ وزیرِاعظم حیدر العبادی کو بھجوادیا ہے جو خود بھی خودکش حملے کے بعد سے عوامی غیض و غضب کے نشانے پر ہیں۔

بغداد کے نسبتاً خوش حال علاقے کرادہ میں اتوار کو ایک ٹرک سوار خود کش حملہ آور کی کارروائی میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق امدادی اہلکار دو روز گزرنے کے باوجود اب بھی متاثرہ علاقے میں منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے میں دھماکے کےبعد لاپتا افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق کرادہ میں ہونے والا خود کش حملہ 2003ء میں امریکی حملے کے بعد سے ہلاکتوں کے اعتبار سے عراق میں ہونے والی دہشت گردی کی چند بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی جس کے جنگجووں کے مطابق حملے کا نشانہ علاقے میں آباد شیعہ افراد تھے۔

بیشتر عالمی رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور عالمی طاقتوں سے داعش کو لگام ڈالنے کی اپیل کی تھی جس نے گزشتہ چند روز کے دوران عراق کے علاوہ سعودی عرب، بنگلہ دیش اور دیگر ملکوں میں ہونے والی دہشت گردی کی چند بڑی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اتوار کو حملے کے بعد عراقی وزیرِاعظم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا جس کے دوران وہاں موجود مشتعل افراد نے ان پر پتھر اور خالی بوتلیں برسائی تھیں۔ حملے کےبعد عراقی حکومت نے دارالحکومت کی سکیورٹی سخت کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG