رسائی کے لنکس

عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی کا کہنا تھا کہ اگر انھیں کہا گیا تو کردستان مزید جنگجو کوبانی بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

عراقی کرد جنگجوؤں "پیش مرگہ" کے 150 ارکان شام کے سرحدی قصبے کوبانی پہنچے ہیں جہاں وہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے برسر پیکار کرد ملیشیا کی مدد کریں گے۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم "سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس" کے مطابق ان پیش مرگہ جنگجوؤں کا تعلق عراقی کردستان سے ہے اور یہ جمعرات کو ترکی کے راستے کوبانی میں داخل ہوئے۔ ترکی سے سرحد پار سفر کے لیے ان کا ترک حکومت سے معاہدہ ہوا تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پیش مرگہ کے دیگر ارکان بھی آئندہ "چند گھنٹوں میں" عین العرب کہلانے والے علاقے کوبانی پہنچ جائیں گے۔

شام کے مسلح کرد فورس کی ایک کمانڈر مریم کوبانے نے خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" کو بتایا کہ ابتدائی طور پر پہنچنے والے پیش مرگہ جنگجوؤں کا گروپ "ہماری حکمت عملی کے مطابق منصوبہ بندی کرے گا"۔

اس اہم قصبے پر قبضے کے لیے سنی شدت پسند گروپ 'دولت اسلامیہ' کے جنگجو کوششیں کر رہے ہیں لیکن انھیں کرد ملیشیا کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

جمعرات کو عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی کا کہنا تھا کہ اگر انھیں کہا گیا تو کردستان مزید جنگجو کوبانی بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

دولت اسلامیہ کے اہداف کو کوبانی کے قریب امریکہ اور اس کے اتحادی فضائی کارروائیوں میں نشانہ بناتے چلے آرہے ہیں۔

امریکہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس نے کوبانی کے نزدیک 10 سے زیادہ فضائی کارروائیاں کیں جب کہ دو عراق اور دو شام میں کی گئیں۔

حالیہ لڑائی کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ شامی کرد نقل مکانی کر کے ترکی میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG