رسائی کے لنکس

داعش سے لڑائی، عراقی پیش مرگہ جنگجو شام روانہ


پیش مرگہ جنگجوؤں کا قافلہ

پیش مرگہ جنگجوؤں کا قافلہ

پیش مرگہ افواج ’کسی بھی لمحے‘ کوبانی میں داخل ہوجائیں گی: ترک وزیر خارجہ کا بیان۔ ادھر، کرد عہدے داروں کا کہنا ہے کہ 80 کے قریب یہ جنگجو توب خانے اور مشین گنوں سے مسلح ہیں

ترک سرحد کے جنوب میں واقع قصبے پر قبضے کے حصول کی جاری لڑائی میں حصہ لینے اور دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے، عراقی کُرد پیش مرگہ جنگجو شام کے شہر، کوبانی کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔

کرد عہدے دارو ں کا کہنا ہے کہ 80 کے قریب یہ جنگجو جو توب خانے اور مشین گنوں سے مسلح ہیں، کوبانی کی جنگ میں شرکت کی غرض سے، منگل ہی کو ترکی سے فضائی راستے روانہ ہونے والے تھے، جب کہ توقع ہے کہ مزید 72 جنگجو بدھ کو روانہ ہوں گے۔

ترک وزیر خارجہ، ملوت ساؤسگلو نے بتایا ہے کہ پیش مرگہ افواج ’کسی بھی لمحے‘ کوبانی کے جنگ زدہ قصبے میں داخل ہوجائیں گے۔

ترکی کوبانی کے تنازع میں اپنی فوجیں جھونکنے سے ہچکچاتا رہا ہے، اس لیے کہ، بقول اُس کے، کوبانی میں لڑنے والے شامی کُرد، دہشت گرد تنظیم،’کردستان ورکرز پارٹی‘ سے وابستہ ہیں، جو کُرد ثقافتی اور سیاسی حقوق کے حصول کے لیے تین دہائیوں سے ترکی کے خلاف نبردآزما رہے ہیں۔

تاہم، گذشتہ ہفتے ترکی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کوبانی جانے کے لیے پیش مرگہ جنگجو ترکی کا راستہ استعمال کر سکتے ہیں۔

منگل کے روز لڑائی جاری رہی، جب کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اُس نے کوبانی میں داعش کے ٹھکانوں پر چار مزید فضائی حملے کیے ہیں، جب کہ عراق میں جہادیوں کے خلاف مزید نو فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔

وائس آف امریکہ کے اسکاٹ بوب، جو اس وقت ترکی میں ہیں، کوبانی کی تازہ ترین لڑائی کے بارے میں کہا ہے کہ، علی الصبح اور دوپہر کے وقت دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے۔

’ہم نے کوبانی کے پناہ گزینوں سے شہر کے اندر مقیم اُن کے جاننے والوں سے بات کرتے ہوئے سنا ہے کہ امریکی قیادت والے اتحاد کی طرف سے دو فضائی حملے کیے گئے۔ پھر یہ کہ کرد میلشیاؤں اور داعش کے شدت پسندوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ اب بھی سرحد پر گولہ باری جاری ہے جو بظاہر داعش کے جنگجوؤں کا ایک اہم ہدف ہے‘۔

XS
SM
MD
LG