رسائی کے لنکس

ضلعٴاشین کے گورنر کے بقول، ’اُس (داعش) نے 127 افراد کو قید کر رکھا ہے۔ قیدیوں میں مذہبی رہنما اور زعما بھی شامل ہیں۔ زیادہ تر قیدیوں میں افغان نیشنل آرمی، افغان نیشنل پولیس اور افغان مقامی پولیس کے ارکان شامل ہیں‘

داعش کے دہشت گرد گروہ کے شدت پسند افغانستان کے ضلع اشین میں تین مقامات پر نجی قیدخانے چلارہے ہیں۔ یہ بات ضلعے کے گورنر نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتائی۔

اشین مشرقی صوبہٴننگرہار کے سات اضلاع میں سے ایک ہے جہاں دولت اسلامیہ اور مقامی طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری رہی ہے۔

اشین کے گورنر، حاجی غالب مجاہد نے کہا ہے کہ قیدخانوں میں بند لوگوں کی اکثریت افغان اہل کاروں پر مشتمل ہے۔

حاجی غالب مجاہد کے بقول، ’اُس (داعش) نے 127 افراد کو قید کر رکھا ہے۔ قیدیوں میں مذہبی رہنما اور زعما بھی شامل ہیں۔ زیادہ تر قیدیوں میں افغان نیشنل آرمی، افغان نیشنل پولیس اور افغان مقامی پولیس کے ارکان شامل ہیں۔‘

گورنر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دولت اسلامیہ گروپ کے شدت پسندوں نے کس طرح سے مقامی افراد کے ساتھ مبینہ خراب رویہ جاری رکھا ہوا ہے۔

حاجی غالب مجاہد کے الفاظ میں ’وہ مذہبی رہنماؤں سے کہتے ہیں کہ اِس طریقے سے نماز ادا کرو، اور حکومت کے ملازمین اور سلامتی افواج کے ارکان کے ساتھ نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں۔ وہ قبائلی زعما سے کہتے ہیں کہ وہ خواتین کو برقع پہنانے کو یقینی بنائیں، اور وہ سر سے پیر تک ڈھکی رہیں‘۔

گذشتہ ماہ جاری ہونے والی ایک وڈیو میں صوبے میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں متعدد افراد کی ہلاکت کا انکشاف ہوا۔ اگست میں مقامی مکینوں نے بتایا تھا کہ کم از کم 300 افراد داعش کے قبضےمیں ہیں اور حکومت پر زور دیا کہ اِنھیں رہا کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG