رسائی کے لنکس

داعش کی وڈیو ’حقارت آمیز مواد‘ قرار، جائزہ لیا جا رہا ہے: کیمرون


فوٹو

فوٹو

برطانیہ کا کہنا ہے کہ اِس وڈیو کے مندرجات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں انگریزی زبان بولتے ہوئے ایک مسلح شخص شام میں برطانوی فضائی حملوں پر کیمرون کا مذاق اڑاتے ہوئے اِس بات کا عہد کرتا ہے کہ ’برطانیہ کو فتح کیا جائے گا، جہاں شریعت کا قانون نافذ ہوگا‘

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پیر کے روز داعش کی وڈیو کو ’حقارت آمیز مواد‘ قرار دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دکھائے گئے پانچ افراد کا تعلق برطانیہ سے ہے، جو مبینہ طور پر شام میں برطانیہ کے لیے جاسوسی کرتے پکڑے گئے تھے۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ اِس وڈیو کے مندرجات کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں انگریزی زبان بولتے ہوئے ایک مسلح شخص شام میں برطانوی فضائی حملوں پر کیمرون کا مذاق اڑاتے ہوئے اِس بات کا عہد کرتا ہے کہ ’برطانیہ کو فتح کیا جائے گا، جہاں شریعت کا قانون نافذ ہوگا‘۔

دس منٹ کی اس وڈیو سے داعش پانچ برطانوی جاسوس ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، جس سے محمد اموازی کی یاد تازہ ہوتی ہے،جو برطانیہ سے تعلق رکھنے والا داعش کا دہشت گرد تھا، جسے ’جہادی جان‘ کے نام سے جانا جاتا تھا؛ جو اس سے قبل قتل کی دیگر وڈیوز میں نمایاں رہا تھا، جس کے بعد گذشتہ سال اُسے ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

برطانوی لیڈر نے اس نئی وڈیو کو ’حقارت آمیز مواد‘ قرار دیا، جو ایک ایسی تنظیم کی طرف سے سامنے آیا ہے جو ’نہایت ہی ناقابل بیان، قبیح اور بربریت پر مبنی اقدام کے لیے بدنام ہے، اور آج کی یہ وڈیو اِسی بات کی مظہر ہے‘۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ’یہ وہی تنظیم ہے جس کے پیروں تلے رقبہ تنگ پڑتا جا رہا ہے، جو میرے خیال میں، کسی کی بھی ہمدردی کے لائق نہیں؛ اور اس سے اس بات کا بھی پتا چلتا ہے کہ ہمارا واسطہ کس قسم کی بدترین تنظیم سے ہے‘۔

انسداد دہشت گردی سے وابستہ ایک امریکی اہل کار نے کیمرون کے اس تجزئے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے میں داعش پر زمین تنگ ہوتی جارہی ہے، اُس کے حامیوں کے اندر شک اور مایوسی کے بادل چھا رہے ہیں، اور ایسے میں وہ اپنے زیر تسلط افراد کو کچلنے میں دیر نہیں لگاتا‘۔اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کی۔

اتوار کو سامنے آنے والی ایک وڈیو میں داعش کے جنگجوؤں کی طرف سے پانچ افراد کو ہلاک کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ برطانیہ اور شام کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔

دس منٹ کے وڈیو کلپ میں ان افراد کو دکھایا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر پیسوں کے عوض شمالی شام میں داعش کے گڑھ رقہ میں جاسوسی فلم اور تصاویر بنانے کا اقرار کیا ہے۔

وڈیو میں یہ افراد نارنجی رنگ کا لباس پہنے اپنے گھٹنوں کے بل فوجی لباس میں ملبوس پانچ نقاب پوشوں کے سامنے جھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد ان پانچ افراد کو سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے جنہیں داعش کے عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر جاسوس قرار دیا۔

گزشتہ سال شام اور عراق کے وسیع حصے پر قبضہ کر کے وہاں نام نہاد خلافت کا اعلان کرنے والی شدت پسند تنظیم ’داعش‘ اس سے پہلے متعدد غیر ملکی شہریوں کو ہلاک کر چکی ہے جن میں امریکہ، جاپان اور چین کے شہری بھی شامل ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادی اس شدت پسند تنظیم کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ روس بھی اس گروپ کے عسکریت پنسدوں کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG