رسائی کے لنکس

کرنل سٹیو وارن نے کردوں کی پیش قدمی کو امریکی اتحاد کی جانب سے داعش کی شام میں سرگرمیوں کی صلاحیت ختم کرنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔

ترکی کی سرحد پر ایک اہم شامی شہر پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش میں داعش کے شدت پسند کرد جنگجوؤں اور دیگر باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے دوران ’شدید دباؤ کا شکار‘ ہیں۔

کرد جنگجوؤں کو امریکی فضائی قوت کا تعاون حاصل ہے۔

منگل کو پینٹاگان کے ترجمان کرنل سٹیو وارن نے کہا کہ ’’اس مقام پر ہم داعش کو شدید دباؤ کا شکار دیکھ رہے ہیں، جو لڑنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، جو اس طاقت کا مقابلہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی جو اس کو درپیش ہے۔‘‘

امریکی دفاعی حکام نے کرد حکام کے ان دعوؤں کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تل ابيض کو مکمل طور پر داعش کے قبضے سے چھڑا لیا گیا تھا، مگر امریکی حکام نے شہر کے مضافات میں تازہ ترین پیش قدمی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا، جو ان کے بقول اس جنگ کا رخ تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

دفاعی اور انٹیلی جنس حکام نے کہا کہ تل ابيض داعش کے لیے طویل عرصے تک ایک اہم گزرگاہ رہا ہے اور جنوب میں واقع اس کے خود ساختہ دارالحکومت رقہ کو رسد لے جانے والے راستے کا حصہ ہے۔

یہ غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے بھی ایک اہم گزرگاہ رہا ہے، جو داعش کے جانی نقصان کے بعد اس کی صفوں میں شامل ہوتے رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں کے دوران داعش کو 10,000 سے زائد جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کرنل سٹیو وارن نے کردوں کی پیش قدمی کو امریکی اتحاد کی جانب سے داعش کی شام میں سرگرمیوں کی صلاحیت ختم کرنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ ’’یہ فضائی طاقت، تباہ کن فضائی طاقت کے ساتھ تجربہ کار، تربیت یافتہ اور باصلاحیت زمینی فوج کی کارروائی کی ایک اہم مثال ہے۔‘‘

تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ تشویش کی وجوہات بدستور موجود ہیں، جن میں ترک حکام کی جانب سے یہ الزام بھی شامل ہے کہ شمالی شام میں کرد فورسز ’’ایک قسم کی نسل کشی‘‘ میں مصروف ہیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ بات ناقابل قبول ہو گی، مگر ان الزامات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

آیا داعش درحقیقت پسپا ہو رہی ہے یا اس کے کمانڈروں نے فیصلہ کیا ہے کہ دوسرے محاذ زیادہ اہم ہیں، اس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

امریکہ کے دفاعی اور انٹیلی جنس حکام نے ماضی میں کہا تھا کہ داعش کافی سخت جان ہے، اور ایک محاذ پر شکست کھانے کے بعد یہ دوسرے محاذوں پر ابھر آتی ہے اور مسائل پیدا کرتی ہے۔

اندازے کے مطابق 10,000 کے جانی نقصان سے بھی داعش کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ امریکہ کے دفاعی اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کی تعداد مستقل طور پر 22,000 سے 32,000 کے درمیان رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG