رسائی کے لنکس

پاکستان میں جہاں جمہوریت اور آمریت چھپن چھپائی کا کھیل کھیلتے رہے اور جہاں جمہوریت ابھی بھی اپنے پیر جمانے کی تگ و دو کر رہی ہے، یہ کوشش کس حد تک کامیاب رہے گی؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کئی واشنگٹن میں منعقدہ ایک تقریب میں۔ تفصیلات آڈیو رپورٹ میں۔


جمہوریت کیا ہے اور کیا پاکستان جیسے ملک میں جمہوریت کا کوئی مستقبل ہے؟ یہی سوال رکھا گیا واشنگٹن ڈی سی میں تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقدہ ایک مذاکرے کے مہمان شرکاء کے سامنے، جو پاکستان کے حالات سے نہ صرف پوری طرح واقف ہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں۔

اس مذاکرے میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ برائے پاکستان سٹیڈیز مارون وائن بوم، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے منسلک حسن عباس، کارنیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس کی سینئیر ایسوسی ایٹ سارہ چائز، دی سٹمسن سنٹر میں ساؤتھ ایشیاء پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں جنوبی ایشیاء پروگرام کے سربراہ معید یوسف شامل تھے۔

شرکائے محفل نے پاکستان اور افغانستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں جمہوریت اور جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک جمہوریت کی پاسداری کے لائق ہیں یا نہیں؟

جوشا وائیٹ کا کہنا تھا کہ، ’پاکستان اور افغانستان میں الیکشنز کا مرحلہ ماضی کی نسبت بہت بہتر ہوا ہے۔ مگر ان ممالک میں عوام کے نزدیک جمہوریت اور اسلام کا تعلق بہت گہرا ہے اور وہ جمہوریت کو مذہب سے الگ نہیں دیکھتے‘۔

مگر پاکستان جیسے ملک میں ’جمہوریت‘ سیاست پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے اور کیا واقعی جمہوریت سے عام آدمی کو فرق پڑا ہے؟ ہم نے یہ سوال پوچھا یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں جنوبی ایشیاء پروگرام کے سربراہ معید یوسف سے، جن کا کہنا تھا کہ، ’ ہر ملک کی جمہوریت کا اپنا ایک طرز ہے۔ اصل سوال سڑک پر عام آدمی پوچھتا ہے کہ مجھے میری سروس میسر آ رہی ہے یا نہیں؟ میرے بچوں کے پاس کھانا ہے، سیکورٹی ہے وغیرہ وغیرہ؟ نہ ہی فوجی حکمران دے سکیں ہیں نہ ہی سویلین۔ جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ جو سیاسی جماعتیں آئی ہیں وہ یہ بتا سکیں کہ وہ یہ دے سکیں ورنہ یہ سوالیہ نشان رہے گا کہ یہ سسٹم چلنا چاہیئے یا نہیں؟‘

پاکستان میں جہاں جمہوریت اور آمریت چھپن چھپائی کا کھیل کھیلتے رہے اور جہاں جمہوریت ابھی بھی اپنے پیر جمانے کی تگ و دو کر رہی ہے، یہ کوشش کس حد تک کامیاب رہے گی؟ اور آیا جمہوریت پنپ سکے گی یا نہیں ۔۔۔

اس بارے میں تجزیہ کار حسن عباس کہتے ہیں کہ، ’دیکھئے میں پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل تابناک دیکھتا ہوں۔ پاکستان کی جمہوری قوتیں ایک پروسس سے گزرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر ایک پارٹی نہیں تو دوسری پارٹی۔ آپ کے پی کے میں دیکھیئے۔ انہوں نے سب کو موقع دیا ہے۔ انہوں نے سب کو ووٹ دیے تو یہ ایک پروسس ہے۔ اگلی دفعہ جو چاہے گا کہ خیبر پختونخواہ میں حکومت بنائے۔ اسے پتہ ہوگا کہ تین پارٹیاں وہاں پر شکست کھا چکی ہیں۔ اس میں کچھ تلخ مقامات آتے ہیں اور وہ قوتیں جو پاکستان میں جمہوری نہیں ہیں۔ وہ شرارت کریں گے۔ جب تک پاکستان اس راستے پر گامزن رہے گا تو میرا خیال ہے کہ پاکستان میں جمہوریت آئے گی‘۔

مگر ایسی جمہوریت کا پاکستان میں غربت کی چکی میں پستی اس عوام کو کیا فائدہ ہوگا جسے اس بات سے غرض نہیں کہ ملک کا نظام ایک فوجی آمر کے ہاتھ میں ہے یا اکثریت سے ووٹ حاصل کرکے وزیر ِاعظم کے پاس، جسے فرق پڑتا ہے تو صرف اس بات سے کہ بجلی کے یونٹ کی قیمت پچھلے سال سے کتنی زیادہ ہوئی یا پھر اسے کھانے کو دو وقت روٹی دستیاب ہے یا نہیں؟

معید یوسف کہتے ہیں کہ، ’ کوئی بھی پاکستان کی حکومت آئے۔ فرشتے بھی آ جائیں تو تبدیلی نہیں آ سکتی۔ انہیں وقت دینا ضروری ہے۔ اپوزیشن اور میڈیا کے لیے ضروری ہے کہ جہاں جہاں حکومت غلطی کرے اسے واضح طور پر سامنے لائیں۔ لیکن اس بات کو اتنا بڑھا دینا کہ حکومت اور سسٹم نہ رہے وہ میرے نزدیک خطرناک ہے‘۔

XS
SM
MD
LG