رسائی کے لنکس

عراق: داعش نے تیل کے کنووں میں آگ لگادی


حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی اس کارروائی کا مقصد تکریت پر عراقی فوج کے فضائی حملوں کو روکنا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی اس کارروائی کا مقصد تکریت پر عراقی فوج کے فضائی حملوں کو روکنا ہے

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تکریت کے مشرق میں واقع اجیل آئل فیلڈ کے کنووں سے بدھ کی شام سے گہرا سیاہ دھواں بلند ہورہا ہے

شدت پسند تنظیم داعش نے اپنے زیرِ قبضہ شہر تکریت کے نواح میں واقع تیل کے بعض کنووں میں آگ لگادی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی اس کارروائی کا مقصد تکریت پر عراقی فوج کے فضائی حملوں کو روکنا ہے جو شہر کو شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کرنے والی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تکریت کے مشرق میں واقع اجیل آئل فیلڈ کے کنووں سے بدھ کی شام سے گہرا سیاہ دھواں بلند ہورہا ہے جس نے شہر اور اس کے گرد و نواح کی فضا دھندلادی ہے۔

داعش کے قبضے سے قبل اجیل آئل فیلڈ سے روزانہ 25 ہزار بیرل تیل نکالا جارہا تھا جسے کرکک میں قائم آئل ریفائنری منتقل کیا جاتا تھا۔

اس فیلڈ سے روزانہ 150 ملین کیوبک فٹ گیس بھی نکالی جاتی تھی جو کرکک کے بجلی گھر میں بطور ایندھن استعمال ہورہی تھی۔

گزشتہ سال کے وسط میں آئل فیلڈ پر داعش کے قبضے کے بعد وہاں کام کرنے والے ایک انجینئر نے 'رائٹرز' کو بتایا تھا کہ شدت پسند فیلڈ سے کم مقدار میں تیل نکال رہے ہیں۔

انجینئر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے غیر محتاط طریقے سے تیل کی پیداوار جاری رکھنے سے کنووں میں آگ بھڑک سکتی ہے۔

اجیل آئل فیلڈ تکریت سے 35 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے ۔ ایران کی حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیا 'بدر' کے جنگجو مختلف سمتوں سے تکریت کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں تاکہ شہر کو شدت پسندوں کے قبضے سے آزاد کرایا جاسکے۔

عراقی فوج کی مدد کے لیے عراقی فضائیہ اور امریکہ کی قیادت میں تشکیل پانے والے بین الاقوامی اتحاد کے جنگی طیارے بھی تکریت میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG